حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 31
پانچویں امتیازی علامت حوادث طبیعی یا عذاب الہی پانچویں علامت جو عذاب الہی کو حوادث زمانہ سے الگ کرتی ہے اس کا ذکر قرآن کریم کی حسب ذیل آیت میں ملتا ہے:۔وَمَا نُرِيهِمْ مِنْ آيَةٍ إِلَّا هِيَ أَكْبَرُ مِنْ أُخْتِهَا وَأَخَذْقُهُمْ بِالْعَذَابِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ۔(سورة الزخرف: ۴۹) ترجمہ : ہم ان کو جو نشان بھی دکھاتے تھے وہ اپنے سے پہلے نشان سے بڑا ہو تا تھا اور ہم نے ان کو عذاب میں مبتلا کر دیا تھا تا کہ وہ (اپنی بد اعمالیوں سے) لوٹ جائیں۔یعنی عذاب الہی میں ایک تدریج اور ترتیب پائی جاتی ہے اور آخری غلبہ تک عذابوں کا سلسلہ سخت سے سخت تر ہوتا چلا جاتا ہے۔گویا عذاب الہی کے مختلف مظاہر میں خفیف سے اشر کی طرف حرکت نظر آتی ہے۔اگر عذاب کی شدت کا گراف بنایا جائے تو معمولی اتار چڑھاؤ کے باوجود عذاب کا عمومی رخ شدید سے شدید ترکی طرف ہی نظر آئے گا۔یہاں تک کہ اگر قوم پیغمبر وقت کے نظریات کو قبول نہ کرے اور اس کی ہلاکت مقدر ہو جائے تو عذاب کی آخری یورش سب سے شدید اور فیصلہ کن ہوتی ہے۔حوادث زمانہ میں ایسی کوئی ترتیب نہیں پائی جاتی۔چھٹی امتیازی علامت عذاب الہی کی چھٹی امتیازی علامت یہ ہے کہ گو حوادث زمانہ انسان کی قلبی کیفیت سے اثر انداز نہیں ہوتے اور وہ ان کیفیات سے بے نیاز اپنے دائرہ میں کار فرمارہتے ہیں لیکن عذاب الہی اس عہد کے انسانوں کی قلبی کیفیات سے ایک ایسا عجیب رشتہ رکھتا ہے اگر دلوں میں گزشتہ گناہوں پر ندامت اور پشیمانی پیدا ہو جائے اور طبیعتیں استغفار کی طرف مائل ہوں تو عذاب الہی ٹل جاتا ہے۔قرآن کریم عذاب الہی کی اس امتیازی خصوصیت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔وَمَا كَانَ اللهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ۔(سورۃ الانفال: ۳۴) 31