حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 33 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 33

حوادث طبیعی یا عذاب الہی ہو گئے کم فہم معاندین بڑے تمسخر سے اس بات کا ذکر کرتے ہیں اور نہیں سوچتے کہ قرآن کریم کی پیش کردہ تعلیم کی رو سے سنت انبیاء یہی چلی آئی ہے کہ عذاب کی خبر کے بعد اس سے بچنے کے ظاہری اسباب ضرور اختیار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ خود انہیں ہر قسم کی پیش بندی کا ارشاد فرماتا ہے یہ کبھی نہیں ہوا کہ عذاب الہی کی خبر سن کر انبیاء عین بیچ مقام عذاب کے ڈیرہ ڈال لیں۔عذاب کی بعض قسمیں ایسی بھی ہوا کرتی ہیں جن سے بچنے کے لئے بظاہر کوئی ظاہری ذریعہ اختیار نہیں کیا جاتا لیکن اس کے باوجود وہ عذاب خدا تعالیٰ کے نیک بندوں کو ہلاک کرنے کی قدرت نہیں رکھتا۔اس نوعیت کے عذابوں کے متعلق چونکہ انبیاء کو پہلے سے مطلع کر دیا جاتا ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ جس حد تک انہیں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا ارشاد فرماتا ہے۔اس سے بڑھ کر وہ کوئی تدبیر اختیار نہیں فرماتے پھر بھی وہ دشمن جو ہر طرح کی تدابیر اختیار کرنے پر قادر ہو تا ہے وہ تو عذاب کی زد سے بچ نہیں سکتا لیکن انبیاء اور ان کے ساتھی بعض نامعلوم محرکات کی بناء پر اس کی پکڑ سے محفوظ رہتے ہیں۔اس کی مثال تاریخ انبیاء میں حضرت موسی کے زمانہ میں ملتی ہے جب کہ بنی اسرائیل کو صرف ایک احتیاطی تدبیر اختیار کرنے کا ارشاد ہوا۔یعنی خمیر کھانے سے روک دیا گیا۔اس کے سوا کوئی اور ایسی تدبیر اختیار نہیں کی گئی جس کا صحف سابقہ یا تاریخ میں ذکر ملتا ہو۔فرعون کی قوم اس کے برعکس ہر قسم کی وبائی امراض کے مقابلہ کے لئے تمام معلوم ذرائع اختیار کرنے پر آزاد تھی لیکن جب بعض وبائی بیماریوں نے جن کا تعلق خون سے تھا ان کی قوم پر حملہ کیا تو حضرت موسیٰ کے ماننے والے انہی لوگوں میں رہنے کے باوجود ان بیماریوں سے بچ گئے اور فرعون کی قوم عموماً ان کا شکار ہو گئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں اس کی مثال طاعون کے عذاب کی شکل میں ملتی ہے جس کی تفصیل آئندہ آئے گی۔ایک اور اہم سوال سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آدم کے مخالفین اگر صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے اور نوح کے منکرین کا نشان باقی نہیں رکھا گیا اور موسیٰ کا مقابلہ کرنے والے اگر نیل کی موجوں کی نذر ہو گئے اور داؤد کے دشمنوں کی صف اگر لپیٹ دی گئی اور عیسی کے ماننے والوں کو بھی اس کے منکرین پر 33