حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 30
حوادث طبعی یا عذاب الہی ان میں سے ایک بھی ایسی نہیں جو کسی نبی پر ایمان لانے والی جماعت پر مشتمل ہو بلکہ تمام بے دینوں اور منکروں کی بستیاں ہیں۔جن کے آثار باقیہ آج بھی شرک و بدعت اور فسق و فجور کی داستانیں محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔قرآن کریم نے ان بستیوں کا بار بار ذکر فرمایا ہے اور انسان کی توجہ بار بار اس حقیقت کی طرف مبذول کراتا ہے کہ قدیم سے جاری و ساری عظیم شاہر اہوں پر ان بستیوں کو تلاش کرو تو تمہیں خاک کے عظیم تو دوں تلے دبی ہوئی نظر آئیں گی اور تم دیکھو گے کہ ان میں وہ قومیں مدفون ہیں جو اپنے وقت کے انبیاء کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کا عزم لے کر اٹھی تھیں۔ان کے عزائم نہایت خطرناک اور ان کی قوت نا قابل دفاع تھی۔اس وقت جب کہ بظاہر انبیاء اپنے غلبہ سے مایوس ہو گئے۔تب اچانک اللہ تعالیٰ کی مدد ایک ایسے عذاب کی صورت میں آئی جو اچھے اور برے میں امتیاز کرنے والا تھا جسے خدا چاہتا تھا۔اسے نجات بخشتا تھا لیکن مجرم اس کی پکڑ سے بچ نہ سکتے تھے قرآن کریم اس کیفیت کا ذکر فرماتے ہوئے بیان کرتا ہے:۔(سورة يوسف:ااا) إِذَا اسْتَيْئَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَاءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُعِي مَنْ نَّشَاءُ وَلَا يُرَدُّ بَأْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ اور جب ایک طرف تو ) رسول ( ان کی جانب سے) نا امید ہو گئے۔اور (دوسری طرف) ان (منکروں کا یہ پختہ خیال ہو گیا کہ ان سے (وحی کے نام سے) جھوٹی باتیں کہی جارہی ہیں تو (اس وقت) ان (رسولوں) کے پاس ہماری مدد آگئی اور جنہیں ہم بچانا چاہتے تھے (انہیں) بچا لیا گیا اور مجرم لوگوں سے ہمارا عذاب ( ہر گز ) نہیں ہٹایا جاتا۔یہ مدفون قو میں جن کے مدفن سے انسان لا علمی اور غفلت کی حالت میں گزر جایا کرتا تھا آج کے زمانہ میں جب کہ زمین اپنے بوجھ اگل رہی ہے منظر عام پر ابھر رہی ہیں۔لیکن جس وقت قرآن کریم نے ان کا ذکر فرمایا تھا اکثر انسان ان کے بارہ میں لاعلمی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔30