حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 5
حوادث طبعی یا عذاب الہی احمدیت کا نظریہ احمدی اپنے نظریہ کی بنیاد کلیۂ قرآن کریم پر رکھتے ہیں اور نظریہ کے ہر پہلو کا استنباط بھی قرآن کریم سے ہی کرتے ہیں۔اس لیے جب میں احمدی نظریہ کہتا ہوں تو مراد یہ ہے وہ نظر یہ جو جماعت احمدیہ کے نزدیک فی الحقیقت اسلامی نظریہ ہے۔خواہ اسلام کے دوسرے فرقے اس سے اتفاق کریں یا نہ کریں۔بہر حال احمدی نظریہ کے حسب ذیل پہلو خاص طور پر ذہن نشین ہونے چانہیں ورنہ مادہ پرستوں کے ساتھ تبادلہ خیالات میں کئی پہلوؤں سے معاملہ الجھ سکتا ہے اور ایک احمدی کے لیے مشکلات پیش آسکتی ہیں۔(۱) احمدی ہر گز اس بات سے انکار نہیں کرتے کہ دنیا میں رونما ہونے والے حوادث، مصائب اور زلازل کی طبعی وجوہات موجود ہیں اور یہ تمام امور قانون طبعی کے تابع رو نما ہوتے ہیں۔احمدیوں کے نزدیک مذہب کا خدا بھی وہی خدا ہے جو مادی عالم کا خدا ہے اور جن کو ہم قوانین طبعی قرار دیتے ہیں وہ قوانین طبعی بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے نتیجہ میں اور اس کے مقرر کردہ ضابطوں کے ماتحت کام کر رہے ہیں۔اگر چہ انسان نے تحقیق و جستجو کے بعد اور اس سلسلہ میں بہت کچھ دریافت کیا ہے لیکن قوانین طبعی کی جستجو کرنے والے مفکرین اور محققین بلا استثناء اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ جستجو کا یہ سلسلہ لامتناہی ہے اور اسباب کی کڑیوں میں سے جس قدر بھی ہم دریافت کرتے چلے جائیں کسی کڑی کو بھی پہلی کڑی قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ ہر سبب بذات خود ایک مسبب کا متقاضی ہے جس کا آگے کوئی سبب ہونا چاہئے۔جب اس سبب کو تلاش کیا جائے تو اس کا آگے کوئی سبب ڈھونڈنا پڑتا ہے جب اس کو تلاش کر لیا جائے تو اگلے سبب کی طرف راہنمائی کرتا ہوا ایک دروازہ دکھائی دیتا ہے کہ اس کو بھی کھولو اور اس سے اگلے سبب کو تلاش کرو۔غرضیکہ اسباب کا یہ سلسلہ جہاں تک انسانی عقل کی دسترس کا تعلق ہے لامتناہی ہے۔پھر کون جانے کہ اصل سبب کون تھایا کیا ہے اور کہاں پہنچ کر یہ سلسلہ ختم ہو گا؟ قرآن کریم پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر چیز کا سبب اول بھی اللہ تعالیٰ کی ہی ذات ہے اور آخری نتیجہ بھی اسی کی ذات 5