حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 6 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 6

حوادث طبیعی یا عذاب الہی کی طرف لے جانے والا ہے وہ اول بھی ہے اور آخر بھی۔ہر چیز کا سر چشمہ بھی وہی ہے اور ہر چیز کا مرجع بھی وہی۔ہم مسلمان جو روز مرہ گفتگو میں اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُوْنَ کا ورد کرتے ہیں در حقیقت اس میں اسی بنیادی نظریہ کا اقرار اور اعادہ کیا جاتا ہے۔پس جماعت احمد یہ قوانین طبعی کو قوانین مذہب سے علیحدہ کوئی خود مختار متوازی نظام تصور نہیں کرتی اس لیے یہ تسلیم کر لینے کے باوجود که بلا شبه تمام مادی تغیرات قوانین طبعی کے نتیجہ میں رونما ہوتے ہیں۔یہ بھی تسلیم کرتی ہے اور ان دونوں اعتقادات میں کوئی تضاد نہیں پاتی کہ تمام قوانین طبعی اللہ تعالیٰ کی قدرت اور مقرر کردہ قوانین کے تابع کام کرتے ہیں اور وہ تمام قوت جو طبعی تبدل و تغیر کے وقت استعمال ہوتی یا خارج ہوتی ہے اس کا سر چشمہ بھی اللہ تعالیٰ کی ہی ذات ہے۔(۲) جماعت احمد یہ یہ اعتقاد رکھنے کے باوجود کہ غیر معمولی حوادث اور مصائب اللہ تعالیٰ کی خاص مشیت سے تعلق رکھتے ہیں ہر گز یہ عقیدہ نہیں رکھتی کہ ہر قدرتی حادثہ اور ہر تغیر اور ہر تبدیلی عذاب الہی کی آئینہ دار ہوا کرتی ہے۔عموماً ایک دنیا دار مادہ پرست مذہبی نظریہ کو صحیح رنگ میں نہ سمجھنے کے نتیجہ میں معترض بن جاتا ہے اور کسی حد تک اس کے اعتراضات درست بھی ہوتے ہیں اگر انسان اپنی طرف سے کوئی نظریہ بنا کر مذہب کے سر تھوپ دے تو لازماً اس میں تضادات اور نقائص پائے جائیں گے۔نتیجہ غیر مذہبی طاقتوں کو موقعہ میسر آجائے گا کہ اس نظریہ کی خامیاں ظاہر کر کے یہ ثابت کریں کہ جس مذہب نے یہ غلط نظریہ پیش کیا ہے وہ مذہب ہی جھوٹا اور نا قابل اعتماد ہے اور انسانی عقل اس کی راہنمائی کو قبول نہیں کر سکتی۔یہی مصیبت تھی جس کا احیائے علوم کے زمانہ میں عیسائیت کو سامنا کرنا پڑا اور عیسائی پادری اپنے مذہب کی طرف ایسے خود ساختہ نظریات منسوب کر رہے تھے جن کا الہام الہی سے کوئی تعلق نہ تھا۔یا تو وہ بگڑی ہوئی بائیبل کے فرضی قصے تھے یا آیات تورات کی غلط تشریحات پر مبنی مفروضے۔نتیجہ یہ نکلا کہ انسان نے خصوصاً اہل یورپ نے جب قوانین قدرت کی چھان بین کی اور بہت سے انکشافات کو واضح طور پر عیسائی نظریات کے مخالف پایا تو عیسائیت کو ایک فرسودہ اور جھوٹا مذ ہب سمجھ کر ترک کرنا شروع کر دیا پھر یا تو کھلم کھلا انہوں نے عیسائیت سے بغاوت کی یا پھر عملاً اس طرح اس سے