حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 4
حوادث طبیعی یا عذاب الہی سوچو کہ یہ کیسا غیر معقول اور مضحکہ خیز طریق ہے۔جس سے آج کی دنیا میں کوئی بھی متاثر ہونے کے لیے تیار نہیں۔یہ باتیں سن کر بعض احمدی تو اظہار حسرت کے سوا اور کوئی قدرت نہیں رکھتے ، بعض خود اس معاملہ میں متفکر اور متردد ہو جاتے ہیں کہ کہیں واقعہ یہ محض ہمارا خیال ہی تو نہیں۔جب سے دنیا بنی ہے آفات اور مصائب سے اہل دنیا کا واسطہ پڑتا ہی چلا آرہا ہے پھر ہم کیسے ان طبعی واقعات کو صداقت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طور پر پیش کر سکتے ہیں۔لیکن افسوس کہ سوچ کا سلسلہ کسی منزل پر رک نہیں سکتا بلکہ اس خیال کے آتے ہی معا تصور کی دوسری چھلانگ اس جانب لپکتی ہے کہ قرآن کریم میں کیوں حوادث طبعی کو بڑے اصرار اور تکرار کے ساتھ انبیاء کی صداقت کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور کیوں قرآن بکثرت اس مضمون سے بھرا پڑا ہے کہ خدا کے کسی مرسل کے انکار کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک کے بعد دوسری قوم کو ہلاک کیا اور صرف وہی باقی رکھے گئے جو ایمان لانے والے تھے ؟ پھر کیوں قرآن کریم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید میں بھی بار بار یہی دلیل پیش کرتا ہے کہ اور انسانوں کو تنبیہ کرتا ہے کہ اگر رسولوں کے سردار کا انکار کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے جو سلوک کمتر درجہ کے انبیاء کے منکرین کے ساتھ کیا تھا وہی سلوک بلکہ اس سے بڑھ کر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے منکرین سے بھی کیا جائے گا۔اور خدا کا یہی سلوک اس بات کی گواہی دے گا کہ یہ رسول اپنے تمام دعاوی میں سچا تھا۔پس اس منزل پر تصور کی چھلانگ مسئلہ کو احمدیت کے دائرہ سے نکال کر وسیع تر اور بلند تر اصولی سوال تک پہنچا دیتی ہے۔کہ فی ذاتہ اس دعویٰ کی حقیقت کیا ہے؟ کیا کسی بھی مذہب کے لیے اصولاً یہ جائز ہے کہ حوادث زمانہ کو عذاب الہی قرار دے یا خد اتعالیٰ کے کسی مرسل کے انکار کا نتیجہ بیان کرے؟ اس تمہیدی بیان کے بعد جس سے مسئلہ کی اہمیت خوب اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے۔میں کوشش کروں گا کہ جس حد تک ممکن ہو اس کے مختلف پہلوؤں پر کچھ نہ کچھ روشنی ڈالوں اور اپنے دوسرے بھائیوں کو اس بارہ میں مزید فکر و تدبر کی دعوت دوں۔4