نماز — Page 29
کیا جائے۔رکوع کے بعد سیدھا کھڑا ہونا چاہئے۔پھر اطمینان سے سجدہ کیا جائے۔سجدہ میں جانے کیلئے گھٹنے زمین پر پہلے رکھے سوائے اس کے کہ کوئی مجبوری ہو۔سجدہ کے وقت پیشانی، ناک، دونوں ہاتھ دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں کے پنجے زمین پر لگنے چاہئیں۔کہنیاں زمین سے اونچی ہوں۔باز و بغلوں اور رانوں سے الگ ہوں۔ہاتھوں کی انگلیاں اکٹھی اور قبلہ رخ ہوں۔اسی طرح پاؤں کی انگلیاں بھی ، پاؤں زمین سے اونچے نہ کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سینے پر ہاتھ باندھتے تھے۔بعض لوگ ناف پر یا پیٹ پر باندھتے ہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔یہ جواز کی صورتیں ہیں۔۱۰ میں اگر کچھ بھول جائے یا کسی قسم کی کمی بیشی کا خیال ہو تو یقینی حصہ سے پوری کرے۔اور تشہد ، درود اور ماثورہ دعاؤں کے بعد سلام سے پہلے یا پیچھے دو سجدے سہو کرے۔مثلاً شبہ ہو کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار تو تین یقینی سمجھ کر ایک رکعت اور پڑھے -11 ۱۲۔اور پھر سجدہ سہو کرے۔امام اگر کوئی چیز بھول جائے یا غلطی کرے تو مقتدیوں کو چاہئے کہ سبحان اللہ کہیں۔اگر امام اپنی غلطی کو نہ پہچانے تو امام کی اتباع کی جائے اور بعد غلطی سے مطلع کر دیا جائے۔اگر امام کوئی آیت بھول جائے یا غلط پڑھے تو مقتدی اونچی آواز سے صحیح آیت پڑھ دیں۔غلطی سے اگر کے ارکان کی ترتیب بدل جائے یا کا کوئی واجب رکن رہ جائے مثلاً درمیانی قعدہ تو سجدہ سہوضروری ہو جاتا ہے۔مقتدی کی کوئی حرکت امام سے پہلے نہیں ہونی چاہئے۔۱۳- اگر صرف ایک ہی مقتدی ہو تو امام کے دائیں طرف کھڑا ہو۔جب دوسرا مقتدی آجائے تو وہ امام کے بائیں طرف کھڑا ہو۔(29)