نماز — Page 30
۱۴۔جس وقت امام سورۃ فاتحہ کے علاوہ کوئی حصہ قرآن کریم کا پڑھے تو مقتدی خاموش کھڑے رہ کر سنیں۔آیات کو زبان سے نہ دہرائیں۔البتہ سورۃ فاتحہ خلف امام سب کیلئے پڑھنا ضروری ہے۔(ملفوظات جلد نہم ص ۴۳۶) ۱۵- ی کے سامنے سے گذرنا منع ہے اگر کوئی ی مسجد میں پڑھ رہا ہو تو ایک صف کی جگہ چھوڑ کر اس کے سامنے سے گذر سکتے ہیں۔جو ی کھلی جگہ پڑھے اس کو چاہئے -17 کہ کوئی چیز اپنے سامنے رکھ لے۔اسے سترہ کہتے ہیں۔اگر کوئی شخص ایسے وقت میں جماعت میں شامل ہو جب امام ایک یا دورکعتیں پڑھ چکا ہو تو جتنی رکعتیں رہ گئی ہیں امام کے سلام پھیر لینے کے بعد پوری کرے۔یعنی خود امام کے ساتھ سلام نہ پھیرے بلکہ کی تکمیل کیلئے کھڑا ہو جائے اگر ی پہلی یا دوسری رکعت میں شامل نہ ہو سکا ہو تو ایسی صورت میں جو رکعت یارکعتیں وہ پڑھے گا اس میں سورۃ فاتحہ کے علاوہ بھی قرآن کریم کا ایک حصہ پڑھنا ضروری ہے جو کم و بیش تین آیات کے برابر ہو۔اس کیلئے یہ رکعتیں ابتدائی ہوں گی۔-۱۷ اگر کوئی شخص وضو ٹوٹ جانے کی وجہ سے باجماعت سے الگ ہوا اور وضو کر نے کے بعد دوبارہ جماعت میں شامل ہو جائے تو جتنی رکعتیں رہ گئی ہیں وہ پوری کرے۔اگر کوئی شخص اکیلا پڑھ رہا ہے اور پڑھتے پڑھتے وضوٹوٹ جائے تو اس کیلئے جائز ہے کہ وضو کر کے وہیں سے شروع کرے جہاں چھوڑی تھی بشرطیکہ کسی سے بات نہ کی ہو۔بات کرنے کی صورت میں شروع سے پڑھنی ہوگی۔۱۔جو شخص رکوع میں امام کے ساتھ شامل ہو اس کی یہ رکعت ہوگئی رکوع کے بعد شامل ہونے والے کی وہ رکعت نہیں ہوتی۔جب کھڑی ہو جائے تو اس خیال سے جماعت میں شامل ہونے سے رکے رہنا کہ رکوع میں شامل ہو جا ئیں گے درست نہیں جب ہو رہی (30)