نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 91 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 91

91 بے انتہا ہیں اور عقل و دانش کی نگاہیں ان تک نہیں پہنچ سکتیں۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو یہ دعا سکھائی اور اسے نماز کا مدار ٹھہرایا تا لوگ اسکی ہدایت سے فائدہ اُٹھائیں اور اس کے ذریعہ توحید کو مکمل کریں اور (خدا تعالیٰ کے) وعدوں کو یادرکھیں۔اور مشرکوں کے شرک سے نجات پاویں۔اس دُعا کے کمالات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ لوگوں کے تمام مراتب پر حاوی ہے اور ہر فرد پر بھی حاوی ہے۔وہ ایک غیر محدود دُعا ہے جس کی کوئی حد بندی یا انتہا نہیں اور نہ اس کی کوئی غایت یا کنارہ ہے۔پس مبارک ہیں وہ لوگ جو خدا کے عارف بندوں کی طرح اس دُعا پر مداومت اختیار کرتے ہیں۔زخمی دلوں کے ساتھ جن سے خون بہتا ہے اور ایسی روحوں کے ساتھ جو زخموں پر صبر کرنے والی ہوں اور نفوس مطمئنہ کے ساتھ۔یہ وہ دُعا ہے جو ہر خیر ، سلامتی ، پختگی اور استقامت پر مشتمل ہے اور اس دُعا میں رب العالمین کیطرف سے بڑی بشارتیں ہیں۔( تفسیر سورۃ الفاتحہ، ص 233 تا 234، حاشیہ) فاتحہ کی سات آیات کی حکمت "سورۃ فاتحہ کی سات آیتیں اسی واسطے رکھی ہیں کہ