نماز عبادت کا مغز ہے — Page 90
90 سورۃ الفاتحہ کا ورد نماز میں بہتر ہے۔بہتر ہے کہ نماز تہجد ميں اهدِنَا الصِّراط الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِم مَا بدلی توجه و خضوع و خشوع تکرار کریں اور اپنے دل کو نزول انوار الہیہ کے لیے پیش کریں اور کبھی تکرار آیت ايّاكَ نَعْبُدُ وَ ايَّاكَ نَسْتَعِينُ کا کیا کریں۔ان دونوں آیتوں کا تکرار انشاء اللہ القدیر توبر قلب و تزکیہ نفس کا موجب ہوگا۔(الحکم 24 جون 1903 ء ص 3 از تفسیر سورۃ الفاتحہ، ص 22 تا 23) سورۃ الفاتحہ ایک غیر محدود دُعا پس خلاصہ یہ ہے کہ اِھدِنَا الصِّراطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دُعا انسان کو کبھی سے نجات دیتی ہے۔اور اس پر دین قویم کو واضح کرتی ہے۔اور اُس کو ویران گھر سے نکال کر پھلوں اور خوشبوؤں بھرے باغات میں لے جاتی ہے اور جو شخص بھی اُس دُعا میں زیادہ آہ وزاری کرتا ہے اللہ تعالیٰ اُس کو خیر و برکت میں بڑھاتا ہے۔دُعا سے ہی نبیوں نے خدائے رحمن کی محبت حاصل کی اور اپنے آخری وقت تک ایک لحظہ کیلئے بھی دُعا کو نہ چھوڑا اور کسی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اس دُعا سے لا پرواہ ہو، یا اس مقصد سے منہ پھیرے خواہ وہ نبی ہو یا رسولوں میں سے۔کیونکہ رشد اور ہدایت کے مراتب بھی ختم نہیں ہوتے بلکہ