نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 92 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 92

92 دوزخ کے سات دروازے ہیں۔پس ہر ایک آیت گویا ایک دروازہ سے بچاتی ہے“۔سورۃ فاتحہ کی جامع تفسیر ( ملفوظات جلد اول ص 396) الحمد للہ سے قرآن شریف اسی لیے شروع کیا گیا ہے تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کیطرف ایما ہو۔اِهْدِنَا الصِّراطَ الْمُسْتَقِيمَ سے پایا جاتا ہے کہ جب انسانی کوششیں تھک کر رہ جاتی ہیں، تو آخر اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔دُعا کامل تب ہوتی ہے کہ ہر قسم کی خیر کی جامع ہو اور ہر شر سے بچاوے۔پس اهدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں سارے خیر جمع ہیں۔اور غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّا لِيُن میں سب شروں حتی کہ دجالی فتنہ سے بچنے کی دُعا ہے۔مَغْضُوبِ سے بالا تفاق یہودی اور الضالین سے نصاریٰ مُراد ہیں۔اب اگر اس میں کوئی رمز اور حقیقت نہ تھی، تو اس دُعا کی تعلیم سے کیا غرض تھی؟ اور پھر ایسی تاکید کہ اس دُعا کے بڑوں نماز ہی نہیں ہوتی اور ہر رکعت میں اُس کا پڑھا جانا ضروری قرار دیا۔بھید اس میں یہی تھا کہ یہ ہمارے زمانہ کیطرف ایماء ہے۔اس وقت صراط مستقیم یہی ہے جو ہماری راہ ہے ( ملفوظات جلد اوّل، ص 396 تا 397 )