نماز عبادت کا مغز ہے — Page 80
80 قضاء و قدر بھی حق ہے اور دُعا کا فائدہ بھی حق یہ بات یادر ہے کہ اگر چہ قضاء و قدر میں سب کچھ مقرر ہو چکا ہے۔مگر قضاء و قدر نے علوم کو ضائع نہیں کیا۔سو جیسا که با وجود تسلیم مسئلہ قضا و قدر کے ہر ایک کو علمی تجارب کے ذریعے سے ماننا پڑتا ہے کہ بے شک دواؤں میں خواص پوشیدہ اور اگر مرض کے مناسب حال کوئی دوا استعمال ہو تو خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے بے شک مریض کو فائدہ ہوتا سوایسا ہی علمی تجارب کے ذریعہ ہے۔سے ہر ایک عارف کو ماننا پڑا ہے کہ دُعا کا قبولیت کے ساتھ ایک رشتہ ہے۔ہم اس راز کو معقولی طور پر دوسروں کے دلوں میں بٹھا سکیں یا نہ بٹھا سکیں مگر کروڑ ہا راستبازوں کے تجارب نے اور خود ہمارے تجربہ نے اس مخفی حقیقت کو ہمیں دکھلا دیا ہے کہ ہمارا دُعا کرنا ایک قوت مغناطیسی رکھتا ہے اور فضل اور رحمت الہی کو اپنی طرف کھینچتا ہے نماز کا مغز اور روح بھی دُعا ہی ہے ط جو سورۃ فاتحہ میں ہمیں تعلیم دی گئی ہے۔جب ہم اھدنا الصراط المستقیم کہتے ہیں تو اس دُعا کے ذریعہ سے اس نور کو اپنی طرف کھینچنا چاہتے ہیں۔جو خدا تعالیٰ سے اُترتا اور دلوں کو یقین اور محبت سے منور کرتا ہے۔کتاب ایام اصبح ، روحانی خزائن جلد 14 ص 240 تا 241)