نماز عبادت کا مغز ہے — Page 72
72 ہے۔الغرض اللہ تعالیٰ کو خوش کرنا چاہئے جو کام ہوتا ہے اس کے ارادہ سے ہوتا ہے چنانچہ طاعون بھی اسی کے حکم سے آئی ہے یہ دُنیا سے رخصت نہ ہوگی۔جب تک ایک تغیر عظیم پیدا نہ کرلے۔جو اس سے نہیں ڈرتا وہ بڑا بد بخت ہے اور اس کے استیصال کیلئے ایک ہی راہ ہے وہ یہ کہ اپنے آپ کو پاک کرو کیونکہ اگر پاک ہوکر مر بھی جاوے گا تو وہ بہشت کو پہنچے گا۔مرنا تو سب نے ہے مومن نے بھی اور کافر نے بھی مگر مومن اور کافر کی موت میں خدا تعالیٰ فرق کر دیتا ہے۔دیکھو ان باتوں کو منتر جنتر نہ سمجھو اور یہ خیال نہ کرو کہ یونہی فائدہ ہو جاوے گا جیسے کہ بھوکے کے سامنے روٹیوں کا انبار فائدہ نہیں دیتا جب تک کہ وہ نہ کھاوے۔اسی طرح آج کے اقرار کے مطابق جب تک کوئی اپنے آپ کو گناہ سے نہ بچاوے گا اسے برکت نہ ہوگی۔یاد رکھو کہ میں اس بات پر شاہد ہوں کہ میں نے تم کو سمجھا دیا ہے۔اب تم کو چاہئے کہ برائیوں سے بچنے کے واسطے خدا تعالیٰ سے دعا کرو تا کہ بچے رہو۔جو شخص بہت دُعا کرتا ہے اس کے واسطے آسمان سے توفیق نازل کی جاتی ہے کہ گناہ سے بچے اور دعا کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ گناہ سے بچنے کے لیے کوئی نہ کوئی راہ اُسے مل جاتی ہے۔جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔