نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 258 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 258

258 تعداد رکعات فرمایا: پوچھا گیا کہ نمازوں میں تعداد رکعات کیوں رکھی ہے؟ اس میں اللہ تعالیٰ نے اور اسرار رکھے ہیں۔جو شخص نماز پڑھے گا وہ کسی نہ کسی حد پر تو آخر رہے گا ہی۔اور اسی طرح ہر ذکر میں بھی ایک حد تو ہوتی ہے لیکن۔وہ حد وہی کیفیت اور ذوق و شوق ہوتا ہے جس کا میں نے ذکر کیا ہے۔جب وہ پیدا ہو جاتا ہے تو وہ بس کر جاتا ہے۔دوسرے یہ بات حال والی ہے قال والی نہیں۔جو شخص اس میں پڑتا ہے وہی سمجھ سکتا ہے۔اصل غرض ذکر الہی سے یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو فراموش نہ کرے اور اسے اپنے سامنے دیکھتا رہے اس طریق پر وہ گناہوں سے بچارہے گا۔تذکرۃ الاولیاء میں لکھا ہے کہ ایک تاجر نے ستر ہزار کا سودا لیا اور ستر ہزار کا دیا مگر وہ ایک آن میں بھی خدا سے جدا نہیں ہوا۔پس یاد رکھو کہ کامل بندے اللہ تعالیٰ کے وہی ہوتے ہیں جن کی نسبت فرمایا ہے۔لا تلهيهم تِجَارَةٌ وَّلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ ( النور : 38)