نماز عبادت کا مغز ہے — Page 244
244 معاوضہ وہ دیتے تھے اس غرض سے کہ مسجد آباد رہے۔وہ اس سلسلہ میں داخل نہیں۔میں نے اس کا معاوضہ بدستور رکھا ہے۔اب کیا کیا جاوے؟ فرمایا: خواہ احمدی ہو یا غیر احمدی جو روپیہ کیلئے نماز پڑھتا ہے اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔نماز تو خدا کے لیے ہے۔اگر وہ چلا جائے گا تو خدا تعالیٰ ایسے آدمی بھیج دے گا جو محض خدا تعالیٰ کے لیے نماز پڑھیں اور مسجد کو آباد کریں۔ایسا امام جو محض لالچ کیوجہ سے نماز پڑھتا ہے میرے نزدیک خواہ وہ کوئی ہو احمدی یا غیر احمدی۔اس کے پیچھے نماز نہیں ہوسکتی امام اتنی ہونا چاہیے۔بعض لوگ رمضان میں ایک حافظ مقرر کر لیتے ہیں۔اور اس کی تنخواہ بھی ٹھہرا لیتے ہیں۔یہ درست نہیں ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ اگر کوئی محض نیک نیتی اور خداترسی سے اس کی خدمت کر دے تو یہ جائز ہے“۔( ملفوظات جلد چہارم، ص 446) نماز جمعہ کے لیے تین آدمی ہونا ضروری ہیں ایک صاحب نے بذریعہ خط استنفسار فرمایا تھا کہ وہ اکیلے ہی اس مقام پر حضرت اقدس سے بیعت ہیں جمعہ تنہا