نماز عبادت کا مغز ہے — Page 201
201 زبان سے ایک خاص اُنس ہوتا ہے اور پھر وہ اس پر قادر ہوتا ہے۔دوسری زبان سے خواہ اس میں کس قدر بھی دخل اور مہارت کامل ہو۔ایک قسم کی اجنبیت باقی رہتی ہے۔اس لیے چاہیے کہ اپنی مادری زبان ہی میں دُعائیں مانگے۔( ملفوظات جلد اوّل، ص 402) ا سوال ہوا کہ آیا نماز میں اپنی زبان میں دُعا مانگنا جائز ہے ؟ حضور اقدس نے فرمایا : وو سب زبانیں خدا نے بنائی ہیں۔چاہیے کہ اپنی زبان میں جس کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔نماز کے اندر دُعائیں مانگے ، کیونکہ اُس کا اثر دل پر پڑتا ہے تا کہ عاجزی اور خشوع پیدا ہو۔کلام الہی کو ضرور عربی میں پڑھو اور اس کے معنی یاد رکھو اور دعا بیشک اپنی زبان میں مانگو۔جو لوگ نماز کو جلدی جلدی پڑھتے ہیں اور پیچھے لمبی دُعائیں کرتے ہیں وہ حقیقت سے نا آشنا ہیں۔دُعا کا وقت نماز ہے۔نماز میں بہت دُعائیں مانگو۔( ملفوظات جلد اوّل ص 509)