نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 202 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 202

202 اپنی زبان میں دُعا کرنے کی حکمت یہ بھی یاد رکھو ڑھا اپنی زبان میں بھی کر سکتے ہو بلکہ چاہیے کہ مسنون ادعیہ کے بعد اپنی زبان میں آدمی دُعا کرے کیونکہ اس زبان میں وہ پورے طور پر اپنے خیالات اور حالات کا اظہار کر سکتا ہے، اس زبان میں وہ قادر ہوتا ہے۔دُعا نماز کا مغز اور روح ہے اور رسمی نماز جب تک اس میں روح نہ ہو کچھ نہیں روح کے پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ گریہ و بکا اور خشوع و خضوع ہو اور یہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی حالت کو بخوبی بیان کرے اور ایک اضطراب اور قلق اسکے دل میں ہو اور یہ بات اس وقت تک حاصل نہیں ہوتی جب تک اپنی زبان میں انسان اپنے مطالب کو پیش نہ کرے۔غرض دُعا کے ساتھ صدق اور وفا کو طلب کرے اور پھر اللہ تعالیٰ کی محبت میں وفاداری کے ساتھ فنا ہو کر کامل نیستی کی صورت اختیار کرے۔اس نیستی سے ایک ہستی پیدا ہوتی ہے جس میں وہ اس بات کا حقدار ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُسے کہے کہ انتَ مِنى ( ملفوظات جلد سوم، ص 4)