نماز عبادت کا مغز ہے — Page 200
200 کیونکہ جب نقل سے فرض جاتا رہے تو فرض کو مقدم کرنا چاہیئے۔اگر کوئی شخص ذوق اور حضورِ قلب کے ساتھ نماز پڑھتا ہے تو پھر خارج نماز بیشک دُعائیں کرے ہم منع نہیں کرتے۔ہم تقدیم نماز کی چاہتے ہیں۔اور یہی ہماری فرض ہے۔مگر لوگ آجکل نماز کی قدر نہیں کرتے اور یہی وجہ ہے خدا تعالیٰ سے بہت بعد ہو گیا۔مومن کے لیے نماز معراج ہے اور وہ اس سے ہی اطمینان قلب پاتا ہے، کیونکہ نماز میں اللہ تعالی کی حمد اور اپنی الله عبودیت کا اقرار، استغفار، رسول اللہ ﷺ پر درود۔غرض وہ سب امور جو روحانی ترقی کے لیے ضروری ہیں۔موجود ہیں ہمارے دل میں اس کے متعلق بہت سی باتیں ہیں۔جن کو الفاظ پورے طور پر ادا نہیں کر سکتے۔بعض سمجھتے ہیں اور بعض رہ جاتے ہیں۔مگر ہمارا کام یہ ہے کہ ہم تھکتے نہیں۔کہتے جاتے ہیں جو سعید ہوتے ہیں اور جن کو فراست دی گئی ہے وہ سمجھ لیتے ہیں۔( ملفوظات جلد دوم ص 348,347) یہ ضروری بات نہیں ہے کہ دُعائیں عربی زبان میں کی جاویں، چونکہ اصل غرض نماز کی تضرع اور ابتہال ہے، اس لیے چاہیے کہ اپنی مادری زبان میں ہی کرے۔انسان کو اپنی مادری