نماز عبادت کا مغز ہے — Page 165
165 گداز ظاہر کرتے ہیں، بلکہ ان سے بڑھ کر وہ مومن ہیں کہ باجود خشوع اور سوز و گداز کے تمام لغو باتوں اور لغو کاموں اور لغو تعلقوں سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں اور اپنی خشوع کی حالت کو بیہودہ کاموں اور لغو باتوں کے ساتھ ملا کر ضائع اور برباد ہونے نہیں دیتے اور طبعاً تمام لغویات سے علیحدگی اختیار کرتے ہیں۔اور بیہودہ باتوں اور بیہودہ کاموں سے ایک کراہت ان ، کے دلوں میں پیدا ہو جاتی ہے۔اور یہ اس بات پر دلیل ہوتی ہے کہ ان کو خدا تعالیٰ سے کچھ تعلق ہو گیا ہے۔(ضمیمہ براہین احمدیہ، حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد 21 ص 201 تا 202) توحید کے عملی اقرار کا نام ہی نماز ہے خوب یا درکھو اور پھر یادرکھو کہ غیر اللہ کی طرف جھکنا خدا سے کاٹنا ہے نماز اور توحید کچھ ہی ہو ( کیونکہ توحید کے عملی اقرار کا نام ہی نماز ہے) اسی وقت بے برکت اور بے سود ہوتی ہے۔جب ہمیں نیستی اور تذلیل کی روح اور حنیف دل نہ ہو!! سُنو ! وہ دُعا جس کے لیے اُدعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ فرمایا ہے اس کے لیے یہی تیجی روح مطلوب ہے۔اگر اس تضرع اور خشوع میں حقیقت کی روح نہیں تو وہ نہیں نیں سے کم نہیں ہے۔( تفسير سورة البقرة ، ص 55)