نماز عبادت کا مغز ہے — Page 150
150 صالح مادہ نہیں، تب تک اس کے لوازم بھی صالح نہیں ہوتے۔یہاں تک کہ مٹھاس بھی اُسے کڑوی معلوم ہوتی ہے۔اسی طرح پر جب تک انسان صالح نہیں بنتا اور ہر قسم کی بدیوں سے نہیں بچتا اور خراب مادے نہیں نکلتے ، اسوقت تک عبادات کڑوی معلوم ہوتی ہیں۔نماز پڑھتا ہے لیکن اُسے کوئی لذت اور سُرور نہیں آتا۔وہ ٹکریں مار کر منحوس منہ سے سلام پھیر کر رخصت ہوتا ہے، لیکن عبادات میں مزا اُسی وقت آتا ہے۔جب گندے مواد اندر سے نکل جاتے ہیں پھر اُنس اور ذوق شوق پیدا ہوتا ہے۔اصلاح انسانی اسی درجہ سے شروع ہوتی ہے۔نماز میں لذت کے حصول کی شرائط ( ملفوظات جلد اول، ص 256) ایک نے عرض کی کہ نماز میں لذت کچھ نہیں آتی۔حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ نماز نماز بھی ہو۔نماز سے پیشتر ایمان شرط ہے ایک ہندو اگر نماز پڑھے گا تو اسے کیا فائدہ ہوگا۔جس کا ایمان قوی ہوگا وہ دیکھے گا کہ نماز میں لذت ہے اور اس سے اول معرفت ہے جو خدا تعالیٰ کے فضل سے آتی ہے اور کچھ اس کی طینت سے آتی ہے جو محمود فطرت