نماز عبادت کا مغز ہے — Page 151
151 والے مناسب حال اس کے فضل کے ہوتے ہیں اور اس کے اہل ہوتے ہیں۔انہیں پر فضل بھی کرتا ہے۔ہاں، یہ بھی لازم ہے کہ جیسے دنیا کی راہ میں کوشش کرتا ہے ویسے ہی خدا کی راہ میں بھی کرے۔پنجابی میں ایک مثل ہے۔”جو منگے سو مر رہے مرے سومنگن جا“ ( ملفوظات جلد دوم، ص 630 ) نماز اور استغفار دل کی غفلت کا علاج ہیں سیر سے واپس ہوتے ہوئے ایک حافظ صاحب نے آپ سے مصافحہ کیا اور عرض کی کہ میں نابینا ہوں ذرا کھڑے ہو کر میری عرض سُن لیں۔حضور کھڑے ہو گئے اُس نے کہا میں آپ کا عاشق ہوں اور چاہتا ہوں کہ غفلت دور ہو حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ نماز اور استغفار دل کی غفلت کے عمدہ علاج ہیں نماز میں دُعا کرنی چاہیے کہ اے اللہ ! مجھ میں اور میرے گناہوں میں دوری ڈال۔صدق سے انسان دُعا کرتا رہے تو یہ یقینی بات ہے کہ کسی وقت منظور ہو جائے۔جلدی کرنی اچھی نہیں ہوتی زمیندار ایک کھیت ہوتا ہے تو اسی وقت نہیں کاٹ لیتا۔بے