نماز عبادت کا مغز ہے — Page 149
149 تم نے دیکھا ہوگا کہ بہت سے لوگ ہیں جو اپنی عبادت میں لذت کا یہ طریق سمجھتے ہیں کہ کچھ گیت گالیے یا باجے بجا لیے اور یہی اس کی عبادت ہوگی۔اس سے دھوکا مت کھاؤ یہ باتیں نفس کی لذت کا باعث ہوں تو ہوں مگر روح کیلئے ان میں لذت کی کوئی چیز نہیں ان سے رُوح میں فروتنی اور انکساری کے جوہر پیدا نہیں ہوتے اور عبادت کا اصل منشاء گم ہو جاتا ہے۔طوائف کی محفلوں میں بھی ایک آدمی ایسا مزا حاصل کرتا ہے تو کیا وہ عبادت کی لذت سمجھی جاتی ہے؟ یہ باریک بات ہے جس کو دوسری قومیں سمجھ ہی نہیں سکتیں کیونکہ انھوں نے عبادت کی اصل غرض اور غایت کو سمجھا ہی نہیں۔مقام صالحیت ( ملفوظات جلد دوم، ص 698 ، 699) چوتھا درجہ صالحین کا ہے۔یہ بھی جب کمال کے درجہ پر ہو، تو ایک نشان اور معجزہ ہوتا ہے، کامل صلاح یہ ہے کہ کسی قسم کا کوئی بھی فساد باقی نہ رہے۔بدن صالح میں کسی قسم کا کوئی خراب اور زہریلا مادہ نہیں ہوتا، بلکہ جب صاف اور مؤید صحت مواد آسمیں ہو، تو اسوقت صالح کہلاتا ہے۔جب تک