نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 124 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 124

124 شقتیں باب XVI عبادات میں جسم اور روح کی شمولیت ضروری ہے ظاہری نماز اور روزہ اگر اس کے ساتھ اخلاص اور صدق نہ ہو کوئی خوبی اپنے اندر نہیں رکھتا۔جوگی اور سنیاسی بھی اپنی جگہ بڑی بڑی ریاضتیں کرتے ہیں۔اکثر دیکھا جاتا ہے کہ ان میں سے بعض اپنے ہاتھ تک سکھا دیتے ہیں اور بڑی بڑی اٹھاتے اور اپنے آپ کو مشکلات اور مصائب میں ڈالتے ہیں لیکن یہ تکالیف اُن کو کوئی ٹور نہیں بخشتیں اور نہ کوئی سکیت اور اطمینان اُن کو ملتا ہے بلکہ اندرونی حالت ان کی خراب ہوتی ہے۔وہ بدنی ریاضت کرتے ہیں جس کو اندر سے کم تعلق ہوتا ہے اور کوئی اثر ان کی روحانیت پر نہیں پڑتا۔اس لیے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا! لَن يَنَالَ الله الحومُهَا وَلَا دِمَالُوهَا وَلَكِن بنا لهُ التقوى منكم (انج (38) یعنی اللہ کو تمہاری قربانیوں کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ تقویٰ پہنچتا ہے۔حقیقت میں خدا تعالیٰ پوست کو پسند نہیں کرتا بلکہ مغز چاہتا ہے۔اب سوال یہ ہوتا ہے کہ اگر گوشت اور خون نہیں