نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 125 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 125

125 ایک پہنچتا بلکہ تقویٰ پہنچتا ہے تو پھر قربانی کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اور اس طرح نماز روزہ اگر رُوح کا ہے تو پھر ظاہر کی کیا ضرورت ہے؟ اس کا جواب یہی ہے کہ یہ بالکل پکی بات ہے کہ جولوگ جسم سے خدمت لینا چھوڑ دیتے ہیں ان کو رُوح نہیں مانتی اور اس میں وہ نیاز مندی اور عبودیت پیدا نہیں ہوسکتی جو اصل مقصد ہے اور جو صرف جسم سے کام لیتے ہیں رُوح کو اس میں شریک نہیں کرتے وہ بھی خطرناک غلطی میں مبتلا ہیں۔اور یہ جوگی اسی قسم کے ہیں۔روح اور جسم کا باہم خدا تعالیٰ نے تعلق رکھا ہوا ہے اور جسم کا اثر رُوح پر پڑتا ہے۔مثلاً اگر ایک شخص تکلف سے رونا چاہے تو آخر اس کو رونا آہی جائے گا۔اور ایسا ہی جو تکلف سے ہنسنا چاہے اسے ہنسی آہی جاتی ، ہے۔اسی طرح پر نماز کی جس قدر حالتیں جسم پر وارد ہوتی ہیں مثلاً کھڑا ہونا یا رکوع کرنا۔اس کے ساتھ ہی روح پر بھی اثر پڑتا ہے اور جس قدر جسم میں نیاز مندی کی حالت دکھاتا ہے اُس قدر روح میں پیدا ہوتی ہے۔اگر چہ خدا برے سجدہ کو قبول نہیں کرتا مگر سجدہ کو رُوح کے ساتھ ایک تعلق ہے اس لیے نماز میں آخری مقام سجدہ کا ہے۔جب انسان نیازمندی کے انتہائی مقام پر پہنچتا ہے تو اس وقت وہ سجدہ ہی کرنا چاہتا ہے