نماز عبادت کا مغز ہے — Page 116
116 پھونک پھونک کر احتیاط سے رکھتا ہے تاکسی کیڑے کو بھی اس سے تکلیف نہ ہو۔غرض اپنے ہاتھ سے ، پاؤں سے، آنکھ وغیرہ اعضاء سے کسی کو کسی نوع کی تکلیف نہ پہنچاؤ اور دُعائیں مانگتے رہو۔( ملفوظات جلد سوم ، ص 106) وظیفے کے بارے میں ایک اور جگہ فرمایا : وظیفوں کے ہم قائل نہیں۔یہ سب منتر جنتر ہیں جو ہمارے ملک کے جوگی ہندو سنیاسی کرتے ہیں جو شیطان کی غلامی میں پڑے ہوئے ہیں۔البتہ دُعا کرنی چاہیئے خواہ اپنی ہی زبان میں ہو۔نیچے اضطراب اور سچی تڑپ سے جناب الہی میں گداز ہوا ہو ایسا کہ وہ قادر الحی القیوم دیکھ رہا ہے۔جب یہ حالت ہوگی تو گناہ پر دلیری نہ کرے گا۔جس طرح انسان آگ یا اور ہلاک کر نیوالی اشیاء سے ڈرتا ہے ویسے اس کو گناہ کی سرزنش سے ڈرنا چاہیے۔گناہ گار زندگی انسان کیلئے دنیا میں مجسم دوزخ سے جس پر غضب الہی کی سموم چلتی اور اس کو ہلاک کر دیتی ہے جسطرح آگ سے انسان ڈرتا ہے اسی طرح گناہ سے ڈرنا چاہیے کیونکہ یہ بھی ایک قسم کی آگ ہے۔ہمارا مذہب یہی ہے کہ نماز میں روروکر دُعائیں مانگو تا اللہ تعالیٰ تم پر اپنے