نماز عبادت کا مغز ہے — Page 115
115 فرمایا : کہ نمازوں کو سنوار کر پڑھو کیونکہ ساری مشکلات کی یہی کنجی ہے اور اسی میں ساری لذات اور خزانے بھرے ہوئے ہیں۔صدقِ دل سے روزے رکھو صدقہ و خیرات کرو۔درود و استغفار پڑھا کرو۔اپنے رشتہ داروں سے نیک سلوک کرو۔ہمسایوں سے مہربانی سے پیش آؤ۔بنی نوع بلکہ حیوانوں پر بھی رحم کرو۔ان پر بھی ظلم نہ چاہیے۔خدا سے ہر وقت حفاظت چاہتے رہو کیونکہ نا پاک اور نامراد ہے وہ دل جو ہر وقت خدا کے آستانہ پر نہیں گرا رہتا وہ محروم کیا جاتا ہے دیکھو اگر خدا ہی حفاظت نہ کرے تو انسان کا ایک دم گزارہ نہیں۔زمین کے نیچے سے لے کر آسمان کے اوپر تک کا ہر طبقہ اس کے دشمنوں کا بھرا ہوا ہے۔اگر اسی کی حفاظت شامل حال نہ ہو تو کیا ہوسکتا ہے۔دُعا کرتے رہو کہ اللہ تعالی ہدایت پر کار بند رکھے کیونکہ اس کے ارادے دو ہی ہیں۔گمراہ کرنا اور ہدایت دینا جیسا کہ فرماتا ہے۔يُضِلُّ بِهِ كَثِير او يَهْدِي بِهِ كَثِيرًا۔پس جب اس کے ارادے گمراہ کرنے پر بھی ہیں تو ہر وقت دُعا کرنی چاہیے کہ وہ گمراہی سے بچاوے اور ہدایت کی توفیق دے نرم مزاج بنو کیونکہ جو نرم مزاجی اختیار کرتا ہے خدا بھی اس سے نرم معاملہ کرتا ہے۔اصل میں نیک انسان تو اپنا پاؤں بھی زمین پر