نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 114 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 114

114 کر رہے ہیں۔ان وظائف اور آؤ راد میں دنیا کو ایسا ڈالا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی شریعت اور احکام کو بھی چھوڑ بیٹھے ہیں۔بعض لوگ دیکھتے جاتے ہیں کہ اپنے معمول اور اؤراد میں ایسے منہمک ہوتے ہیں کہ نمازوں کا بھی لحاظ نہیں رکھتے۔میں نے مولوی صاحب سے سنا ہے کہ بعض گدی نشین شاکت مت والوں کے منتر اپنے وظیفوں میں پڑھتے ہیں میرے نزدیک سب وظیفوں سے بہتر وظیفہ نماز ہی ہے۔نماز ہی کو سنوار سنوار کر پڑھنا چاہیے اور سمجھ سمجھ کر پڑھو اور مسنون دُعاؤں کے بعد اپنے لیے اپنی زبان میں بھی دُعائیں کرو اس سے تمہیں اطمینان قلب حاصل ہوگا اور سب مشکلات خدا تعالیٰ چاہے گا تو ہی سے حل ہو جائیں گی۔نماز یاد الہی کا ذریعہ ہے اس لیے فرمایا ہے۔أقِمِ الصَّلوةَ لِذِكُرِى (طه: 15) ایک سوال کا جواب ( ملفوظات جلد سوم ،ص 310، 311) سیالکوٹ کے ضلع کا ایک نمبردار تھا۔اس نے بیعت کرنے کے بعد پوچھا کہ حضور اپنی زبان مبارک سے کوئی وظیفہ بتا دیں۔