نماز اور اس کے آداب

by Other Authors

Page 34 of 105

نماز اور اس کے آداب — Page 34

34 وَاجْبُرْنِي وَارْزُقْنِي وَارْفَعُنِي یعنی ”اے میرے رب میرے گناہ معاف کر اور مجھ پر رحم کر اور مجھے سب صداقتوں کی طرف رہنمائی بخش اور مجھے تمام عیبوں سے محفوظ رکھ اور میری اصلاح فرما اور مجھے اپنے پاس سے حلال و طیب رزق عطا فرما اور میر ارفع فرما۔بعض احادیث میں واجبرنی اور بعض احادیث میں وارفعنی آتا ہے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک روایت سنن ابن ماجہ میں مروی ہے کہ رات کی نماز میں آنحضرت ا سجدوں کے درمیان میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے: اے میرے رب مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، میری اصلاح فرما، مجھے رزق عطا فرما اور میر ارفع فرما۔اس کے بعد وہ پھر اللہ اکبر کہہ کر پہلے کی طرح سجدہ میں چلا جاتا ہے۔اور پہلے سجدہ کی طرح دعا کر کے پھر اللہ اکبر کہہ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔اسے ایک رکعت کہتے ہیں ( یعنی اس طرح ایک رکعت مکمل ہوتی ہے ) اس کے بعد وہ پہلے کی طرح پھر ایک ( دوسری رکعت ادا کرتا ہے صرف اس فرق کے ساتھ کہ سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ والی دعا یعنی شاء جس سے اس نے نماز شروع کی تھی کو حذف کر ( چھوڑ دیتا ہے اور سورۃ فاتحہ سے دوسری رکعت شروع کرتا ہے۔اسے مکمل کرنے کے بعد قرآن کریم کا کوئی حصہ پڑھتا ہے مثلاً سورۃ اخلاص۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ o الله الصمده