نماز اور اس کے آداب

by Other Authors

Page 33 of 105

نماز اور اس کے آداب — Page 33

33 رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمُدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَ كَافِيهِ یعنی اے ہمارے رب سب تعریف تیرے ہی لیے ہے۔کثرت سے تعریف اور پاک تعریف جو سب تعریفوں کی جامع ہے۔اس کے بعد وہ پھر اللہ اکبر کہہ کر سجدہ میں چلا جاتا ہے۔سجده سجدہ اسے کہتے ہیں کہ انسان سات ہڈیوں پر زمین پر جھک جاتا ہے۔یعنی اس کا ماتھا زمین پر پوری طرح لگا ہوا ہو۔اس کے دونوں ہاتھ قبلہ روزمین پر رکھے ہوئے ہوں۔اس کے گھٹنے زمین پر لگے ہوئے ہوں اور اس کے دونوں پاؤں بھی زمین پر اس طرح لگے ہوں کہ دونوں پاؤں کی انگلیاں دبا کر قبلہ رو ہوئی ہوں۔اس حالت میں وہ سُبْحَانَ رَبِّيَ الَا عُلَى کہتا ہے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ اے میرے رب تو اپنی شان کی بلندی کے لحاظ سے سب سے زیادہ ہے۔یہ فقرہ وہ کم سے کم تین بار یا اس سے زائد کسی طاق عدد میں کہتا ہے۔اس کے بعد وہ اللہ اکبر کہہ کر بیٹھ جاتا ہے۔اس طرح کہ اس کی بائیں ٹانگ تو تہہ ہو کر اس کے نیچے آجائے اور دایاں پاؤں اس طرح کھڑا ہو کہ انگلیاں قبلہ رخ ہوں اس وقفہ میں وہ یہ دعا پڑھتا ہے۔اَللّهُمَّ اغْفِرْلِی وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَعَافِنِي