نماز اور اس کے آداب — Page 25
25 غسل جنابت مباشرت کے بعد نہانا فرض ہے اس غسل کے بغیر نماز ادا نہیں ہوتی۔اس حکم میں یہ حکمت ہے کہ یہ فعل سارے جسم پر اثر کرتا ہے اور جسم کے ہر حصے کی برقی طاقت میں ایک ہیجان پیدا کر دیتا ہے۔پس اس کو ٹھنڈا کر کے سارے جسم کی برقی طاقت اور خیالات کے انتشار کو دور کرنا عبادت کی تکمیل اور توجہ الی اللہ کے لیے ضروری ہے۔نہانے کے عمل سے جسمانی کمزوری ، روحانی کسل دور ہوتی ہے اور جسم میں تازگی بشاشت اور طبیعت میں شگفتگی پیدا ہوتی ہے جو انسان کے لیے نماز میں محمد اور معاون ثابت ہوتے ہیں۔جیسا کہ بیان ہو چکا ہے کہ وضو اور غسل کا قائم مقام تیم ہے۔اس کی ضرورت اس وقت ہوتی ہے جبکہ پانی میسر نہ ہو پانی میسر تو ہو لیکن اس کا استعمال مشکل ہو۔مثلاً بیمار ہو۔پانی کے استعمال سے بیماری بڑھنے کا خطرہ ہو۔۔پانی میسر تو ہو لیکن پاک نہ ہو۔ان صورتوں میں اسلام نے نماز قائم کرنے سے پہلے ٹیم کا حکم دیا ہے جس کا ذکر سورۃ مائدہ میں ہے اور اس کا ذکر پہلے آچکا ہے۔