نبوت سے ہجرت تک — Page 5
مال۔حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جانتی تھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بہت نیک ہیں۔بیچتے ہیں۔رحم دل ہیں۔مہمان نواز ہیں۔حقدار کو حق دلواتے ہیں۔ہر دکھی کی خدمت کرنے والے ہیں۔اس لئے آپ کو اللہ تعالی کوئی تکلیف نہیں ہونے دے گا تاہم مزید تسلی کے لئے آپ کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو شرک کو چھوڑ کر عیسائی ہو چکے تھے۔توریت اور زیور کے عالم تھے۔کافی بوڑھے ہو چکے تھے آنکھوں سے نظر بھی نہیں آتا تھا۔بچه - ورقہ بن نوفل نے ساری باتیں سن کر کیا کہا ؟ مان - وردبین نوفل تجربہ کار اور سمجھ دار تھے فوراً پہچان گئے اور کہا کہ آپ کے پاس وہی فرشتہ آیا ہے جو حضرت موسی پر دی لاتا تھا۔کاش میں اس وقت تک زندہ رہتا جب آپ کی قوم آپ کو وطن سے نکال دے گی۔بچه۔پیارے آقا کس قدر حیران ہوئے ہوں گے۔ماں۔جی ہاں۔آپ نے فرمایا کیا میری قوم مجھے وطن سے نکال دے گی۔میں تو قوم کا ہمدرد ہوں۔وہ مجھ سے پیار کرتے ہیں۔مجھ سے مشورہ لیتے ہیں اپنی امانتیں میرے پاس رکھواتے ہیں۔وہ مجھے کیوں نکالیں گے۔در درین نوفل