نبوت سے ہجرت تک — Page 19
19 ނ پھر آپ چل پڑے۔تو ابو طالب نے پکارا۔آپ آئے تو چھا کی آنکھوں - آنسو جاری تھے۔بڑے دکھ سے کہا کہ جاؤ اپنے کام میں لگے رہو۔جب تک میں زندہ ہوں اور جہاں تک میری طاقت ہے میں تمہارا ساتھ دوں گا۔بچہ۔امی پھر کیا ہوا۔ماں۔جب کفار قریش نے دیکھا کہ معاملہ تو اپنی جگہ پر ہی ہے نہ تو ابو طالب محمدؐ کو سمجھاتے ہیں اور نہ ہی اُن کا ساتھ چھوڑتے ہیں۔تو وہ اور ترکیبیں سوچنے لگ گئے۔وہ جانتے تھے کہ ابو طالب اپنے بھتیجے کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے اور ابو طالب بھی دل میں آپ کی صداقت کے قائل تھے۔پھر یہ ہوا کہ ایک دفعہ سارے سردار مل کہ آپ کے پاس ایک عرب کے بہت ہی لائق ، دلیر اور خوبصورت جوان کو لائے۔اس کا نام عمار بن ولید مقصد اور حضرت ابو طالب سے کہا کہ اس کو تم اپنا بیٹا بنا لو، اور محمد کو ہمارے حوالے کر دو۔یہ ہمیشہ تمہاری خدمت کرے گا۔اس سے جو چاہے کام لو۔ہم کبھی بھی تم سے اس کے بارے میں نہیں پوچھیں گئے۔اس طرح جان کے بدلے میں جان کا قانون بھی پورا ہو جائے گا۔حضرت ابو طالب نے جب یہ سنا تو بڑی حیرت سے کہا کہ یہ کیسا انصاف ہے کہ میں اپنا بیٹا نہیں دے دوں تا کہ تم اسے ماردو۔اور تمہارے بیٹے کو کھلاؤں پلاؤں واللہ اب کبھی نہ ہو گا بچہ۔پھر تو سارے سردار بہت ناراض ہوئے ہوں گے۔اب انہوں نے کیا سوچا۔ہاں۔سوچنا کیا تھا۔انہوں نے مل کر فیصلہ کیا کہ ہر قبیلہ اپنے اپنے قبیلہ کے مسلمانوں پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ اسلام کو چھوڑ دیں۔جب سب مسلمان محمد کا ساتھ چھوڑ