نبوت سے ہجرت تک

by Other Authors

Page 20 of 81

نبوت سے ہجرت تک — Page 20

دیں گئے تو سلسلہ خود بخود حل ہو جائے گا اور قبائل کی جنگ بھی نہیں ہوگی۔بچہ۔پھر تو پیارے آقا کو بھی آپ کے قبیلے نے ستایا ہوگا۔مان۔نہیں۔حضرت ابو طالب نے نیو ہاشم اور بنو مطلب کو بلاکر تمام حالات بتائے اور کہا کہ ان حالات میں ہم سب کو مل کر اپنے محمد کی حفاظت کرنی چاہیے۔دونوں راضی ہو گئے۔لیکن آپ کے سگے چچا ابو لہب نے انکار کر دیا۔بچہ۔یہ دونوں قبائل کیسے مان گئے۔ماں۔عربوں میں خاندانی غیرت بڑی چیز تھی۔اور اس غیرت کی وجہ سے کہ ہمارے قبیلے کا آدمی ہے۔ایک سردار کا ہوتا۔ایک سردار کا بھتیجا۔اس کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔اور ابو لہب تو مخالفت کی وجہ سے اندھا ہو رہا ہے۔اس کو غیرت کا خیال کیسے آسکتا تھا۔اس لئے وہ الگ ہو گیا۔بچہ۔چلو پیارے آقا تو محفوظ ہو گئے ہیں تو ڈر ہی گیا تھا۔مال۔پیارے آقا کیا محفوظ ہوئے تھے ؟ آپ کے دکھوں میں مزید اضافہ ہو گیا۔اب ہر قبیلہ کے لوگوں نے اپنے مسلمان رشتہ داروں ، عزیزوں کو اسلام سے روکنے کے لئے زور لگایا۔اور مسلمانوں نے تو صداقت کو جان کر پہچان کر مانا تھا۔وہ الگ کیسے ہوتے۔پھر تکالیف کا سلسلہ شروع ہوا۔ماریں پڑنے لگیں بھید کا پیاسا رکھا جاتا۔اور آہستہ آہستہ ظلم بڑھنے لگا۔کفار مکہ اپنا پورا زور لگا ہے تھے۔اور اُدھر مسلمان بھی دنیا کے لئے نئی تاریخ لکھ رہے تھے۔جو قوت بر داشت ، صبر و تحمل ایثار اور قربانی کی نئی کہانیوں سے سجی ہوئی تھی۔کمزور مسلمانوں، غلاموں اور لونڈیوں کا حال بیان نہیں ہو سکتا۔بے چاروں