نبوت سے ہجرت تک — Page 17
16 کو کم کیا۔کچھ ٹھنڈا کر کے لوٹا دیا۔اسلام دن بدن ترقی کہ رہا تھا۔نیک فطرت لوگ آپ کے ہاتھ پر بیعت کر رہے تھے۔قرآن پاک مسلسل نازل ہو رہا تھا۔جس میں بنوں کو جہنم کا ایند من کہا جار ہا تھا۔انكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ (سورة انبياء : ٩٩) ان کے اہم درواج کو جو ان کے دین و مذہب کا حصہ بن چکی تھیں لعنت قرار دیتا تھا۔ان کے آباؤ اجداد کو جو رسوم پر قائم تھے اور چین کی پیروی یہ لوگ کر رہے تھے۔قرآن پاک گمراہ قرار دیتا تھا۔پھر مساوات کی تعلیم جو آقا اور غلام کو۔عورت اور مرد کو ہر چھوٹے اور بڑے کو۔بحیثیت انسان برابر کے حقوق دیتی تھی جس سے ان کی شان اور عزت میں فرق آتا تھا کہ امیہ بن خلف اور حضرت بلال مہ کیسے برابر ہو سکتے ہیں۔یہ تمام باتیں جو امتہ الکفر کافروں کے سرداروں) کو پریشان کر رہی تھیں نہ صرف برقرار تھیں بلکہ تیزی سے پھیل بھی رہی تھیں۔پھر دشمنی کیسے ختم ہو سکتی تھی۔بچہ۔پھر ان لوگوں نے کیا کیا ؟ ماں۔پھر سارے سردار جمع ہوئے اور فیصلہ کیا کہ ابو طالب کے پاس چلیں اور فیصلہ کر یں۔چنانچہ یہ آپ کے پاس آئے۔اور کہا کہ معاملہ حد سے بڑھ رہا ہے۔ہم کو نجس اور پلید کہا جا رہا ہے۔کیا ہم شیطان کی اولاد میں ہے ہمارے معبودوں