نبوت سے ہجرت تک — Page 16
14 تو ظالم چیچنیا چلانا شروع کر دیتے۔بعض کانوں میں انگلیاں ڈال لیتے۔خانہ کعبہ میں سجدے میں تھے تو اونٹ کی اوجھڑی ڈال دی۔گلے میں کپڑا ڈال کر گھوٹا جاتا کہ آنکھیں ایل پڑیں۔گھر مں گندگی اور غلاظت پھینکی جاتی۔گالیاں دی جاتیں۔ان بد نیت انسانوں کا میں نہ چلتا کہ کیا کریں۔بچہ۔پیارے آقا ان کو کیا جواب دیتے ؟ اں۔آپ صرف صبر کرتے۔اور ان لوگوں کے لئے دعائیں کرتے۔اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتے۔کہ خدایا ! یہ نادان ہیں، جانتے نہیں تو انہیں ہدایت ے ادھر قریش کے نہیں اور سردار جین میں ولید بن مغیرہ۔عاص بن وائل عقبہ بن ربیعہ - عمر و بن هشام (ابو جہل) اور ابوسفیان تھے۔حضرت ابوطالب کے پاس آئے اور بڑے دوستانہ انداز میں ان سے درخواست کی کہ اپنے بھتیجے محمد صل اللہ علیہ وسلم کو دین اسلام کی تبلیغ سے روک دیں۔اگر روک نہیں سکتے تو درمیان سے ہٹ جائیں۔ہم خود اس سے نپٹ لیں گے۔اصل میں اُن کی پوری کوشش تھی کہ حضرت ابوطالب پیارے آقا کا ساتھ چھوڑ دیں۔اس طرح وہ بنو ہاشم اور بنو مطلب کے قبیلوں کی ہمدردی بھی کھو دیں گے۔اور ہم آسانی سے محمد پر ہاتھ ڈال سکتے ہیں۔بچہ۔کیا حضرت ابوطالب ان کی بات مان گئے ؟ اں۔نہیں ! ان کو اپنے بھتیجے سے بہت پیار تھا۔اور وہ دل سے یقین بھی رکھتے تھے کہ آپ غلط راہ پر نہیں ہیں۔آپ نے بڑی نرمی سے انہیں سمجھایا اور فقہ