نبوت سے ہجرت تک

by Other Authors

Page 12 of 81

نبوت سے ہجرت تک — Page 12

* آپ نے حضرت علی سے فرمایا ددھیالی رشتہ داروں کی دعوت کا انتظام کرو۔اس دعوت میں چالیس کے قریب جہمان آئے مگر ہوا رہی کہ جب کھانے کے بعد آپ نے اللہ تعالیٰ کا پیغام دینا چاہا تو ابولہب نے پھر ایسی باتیں کیں کہ سب لوگ چلے گئے۔مگر آپ نے ہمت نہیں ہاری۔آپ نے ایک اور دعوت کی اور اس دعوت میں کھانے سے پہلے آپ نے چھوٹا سا خطاب فرمایا۔آپ نے فرمایا۔اسے مطلب کے خاندان والو میں تمہاری طرف وہ بات لے کر آیا ہوں کہ اس سے اچھی بات کوئی اپنے قبیلہ کی طرف نہیں لایا۔تم ایک خدا پر ایمان لاؤ اگر تم نے میری یہ بات مان لی تو دین ودنیا کی بہترین نعمتوں کے وارث بنو گے تم میں سے کون میری مدد کرے گا۔“ بچہ۔میں وہاں ہوتا تو فورا اٹھ کر کہتا میں آپ کی مدد کروں گا۔ماں۔شاباش بچے اللہ تعالی آپ کو جزا د ہے۔اس وقت وہاں بھی ایک بہت پیارا بچہ تھا ، تقریباً تیرہ سال عمر دبلا پتلا آنکھوں سے پانی بہہ رہا کھڑا ہوا اور کہا یہ میں تم سب سے چھوٹا ہوں مگر میں آپ کا ساتھ دوں گا۔یہ بچہ حضرت علی تھے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بات بڑھاتے ہوئے فرمایا " اگر تم اس بچے کی بات پر غور کرو اور مانو تو بہتر ہے۔بجائے اس کے کہ وہ غور کرتے ہنس کے بات ٹال دی ابولہب نے مذاق سے ابو طالب سے کہا کہ تو آب حمیرا تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ اپنے بیٹے کی پیروی کرد۔بچہ۔پیارے آقا تو اللہ تعالیٰ کے سب سے پیارے تھے پھر ایسا کیوں ہوا۔