نبوت سے ہجرت تک — Page 11
" یہ حکم منا تھا کہ آپ سوچنے لگے اس پر کیسے عمل کروں۔آپ صفا پہاڑی پر چڑھ گئے اور قریش کے ہر قبیلہ کا نام لے کر بلایا۔سب لوگ جمع ہو گئے تو آپ نے اونچی آواز میں فرمایا ہر "اے لوگو ! اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک بڑا لشکر ہے جو تم پر حملہ کرنے کو تیار ہے تو کیا تم میری اس بات پر یقین کر لو گے۔“ سب نے کہا ہاں ہم یقین کر لیں گے کیونکہ تم نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔“ بچہ۔یہ تو بہت اچھا ہوا سب نے مان لیا کہ آپ پیچھے ہیں جو کہیں گے سچ کہیں گے۔ماں۔مگر جب آپ نے انھیں بتایا کہ اللہ ایک ہے اُس کو مانو اللہ کا عذاب تمہارے قریب آچکا ہے تم اُس پاک ذات پر ایمان لاؤ ہو تمہارا رب ہے تاکہ اس عذاب سے محفوظ رہ سکو یہ بات سُن کر وہی لوگ جو تھوڑی دیر پہلے کہہ رہے تھے 16 کہ آپ سہتے ہیں ہنے اور مذاق کرنے لگے حتی کہ ابولہب نے کہا جو آپ کے چچا بھی تھے اور ائمہ الکفر بھی)۔لیس اتنی سی بات کے لئے ہمیں مجمع کیا تھا۔پیارے بچے تم دل چھوٹا نہ کر وہ آج تک جتنے بھی نبی آئے ہیں سب کے ساتھ ان کی قوموں نے یہی سلوک کیا ہے۔پھر وہی بچتے ہیں جو خدائے واحد کو مان لیں نافرمانوں پر عذاب نازل ہوتا ہے۔بچہ۔پھر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا حکم ماننے کی کوئی اور ترکیب سوچی ہوگی۔ماں۔جی آپ نے سوچا کھانے کی دعوت کریں اور پھر اللہ تعالی کا پیغام دیں چنانچہ