نبوت سے ہجرت تک — Page 10
نہیں ہوتی تھی۔وہ زبانی دہراتی رہتیں۔بچہ - اُس وقت کی نماز کیسی تھی ؟ اں۔ابھی پانچ وقت کی نماز فرض نہ ہوئی تھی۔حضرت جبرائیل نے وضو اور نماز کا طریق سکھا دیا تھا مسلمان اپنے گھروں میں یا کبھی مکہ کے پاس گھائیوں میں دو دو چار چار مل کر جب موقع ملتا نماز پڑھ لیتے۔ایک دفعہ آپ اور حضرت علی یہ ملکہ کی گھائی میں نماز پڑھ رہے تھے۔حضرت ابو طالب آگئے۔اس عجیب و غریب عبادت کو دیکھ کر پسندیدگی اور حیرت سے پوچھا بیٹا یہ کیا دین ہے جو تم نے اختیار کیا ہے۔آپ نے فرمایا " چا ! یہ دین الہی اور دین ابراہیم ہے۔" ابو طالب خود تو اپنے باپ دادا کے دین کو نہ چھوڑ سکے مگر اپنے بیٹے علی نور سے کہا تم ضرور محمد کا ساتھ دینا کیونکہ مجھے یقین ہے کہ وہ تمہیں نیکی کی طرف بلائے گا۔تجہ۔پیارے آقا نے کب تک چھپ کر تبلیغ کی۔ں۔تین سال سے زیادہ عرصہ اسی طرح گذرا۔چوتھے سال کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا۔فَاصْدَعَ بِمَا تُؤْمَد (حجر: ۹۵) یعنی جو حکم دیا گیا ہے، اُسے کھول کھول کر لوگوں کو سناؤ۔کچھ ہی عرصہ بعد یہ آیت نازل ہوئی فَاندِر عَشِيرَتَكَ الاَ تُربِينَ (الشعراء : ۲۱۵) یعنی اپنے قریبی رشتہ داروں کو بھی ہوشیار کرو اور جگاؤ۔146 استجاری فقہ اسلام ابی ذر سيرة خاتم النبيين حصہ اول ۱)