نبیوں کا سردار ﷺ — Page 49
۴۹ نبیوں کا سردار اور خزرج بستے تھے اور تین یہودی قبائل یعنی بنو قریظہ اور بنو نضیر اور بنو قینقاع۔اوس اور خزرج کی آپس میں لڑائی تھی۔بنو قریظہ اور بنو نضیر اوس کے ساتھ اور بنو قینقاع خزرج کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔مدتوں کی لڑائی کے بعد اُن میں یہ احساس پیدا ہور ہا تھا کہ ہمیں آپس میں صلح کر لینی چاہئے۔آخر با ہمی مشورہ سے یہ قرار پایا کہ عبداللہ بن ابی بن سلول جو خزرج کا سردار تھا اُسے سارا مدینہ اپنا بادشاہ تسلیم کرلے۔یہودیوں کے ساتھ تعلق کی وجہ سے اوس اور خزرج بائبل کی پیشگوئیاں سنتے رہتے تھے۔جب یہودی اپنی مصیبتوں اور تکلیفوں کا حال بیان کرتے تو اُس کے آخر میں یہ بھی کہہ دیا کرتے تھے کہ ایک نبی جو موسیٰ کا مثیل ہو گا ظاہر ہونے والا ہے اُس کا وقت قریب آرہا ہے جب وہ آئے گا ہم پھر ایک دفعہ دنیا پر غالب ہو جائیں گے ، یہود کے دشمن تباہ کر دیئے جائیں گے۔جب اُن حاجیوں سے مدینہ والوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوی کو سنا آپ کی سچائی اُن کے دلوں میں گھر کر گئی اور اُنہوں نے کہا یہ تو وہی نبی معلوم ہوتا ہے جس کی یہودی ہمیں خبر دیا کرتے تھے۔پس بہت سے نو جوان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کی سچائی سے متاثر ہوئے اور یہودیوں سے سنی ہوئی پیشگوئیاں اُن کے ایمان لانے میں مؤید ہوئیں۔چنانچہ اگلے سال حج کے موقع پر پھر مدینہ کے لوگ آئے۔بارہ آدمی اس دفعہ مدینہ سے یہ ارادہ کر کے چلے کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین میں داخل ہو جائیں گے۔ان میں سے دس خزرج قبیلہ کے تھے اور دو اوس کے مٹی میں وہ آپ سے ملے اور اُنہوں نے آپ کے ہاتھ پر اس بات کا اقرار کیا کہ وہ سوائے خدا کے اور کسی کی پرستش نہیں کریں گے، وہ چوری نہیں کریں گے، وہ بدکاری نہیں کریں گے ، وہ اپنی لڑکیوں کو قتل نہیں کریں گے، وہ ایک دوسرے پر جھوٹے الزام نہیں لگائیں گے، نہ وہ خدا کے نبی کی دوسری نیک تعلیمات میں نافرمانی کریں گے۔یہ لوگ سیرت ابن هشام جلد ۲ صفحہ ۷۶۔مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء