نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 50

نبیوں کا سردار وا پس آگئے تو انہوں نے اپنی قوم میں اور بھی زیادہ زور سے تبلیغ شروع کر دی۔مدینہ کے گھروں میں سے بت نکال کر باہر پھینکے جانے لگے۔بتوں کے آگے سر جھکانے والے لوگ اب گرد نہیں اُٹھا کر چلنے لگے۔خدا کے سوا اب لوگوں کے ماتھے کسی کے سامنے جھکنے کے لئے تیار نہ تھے۔یہودی حیران تھے کہ صدیوں کی دوستی اور صدیوں کی تبلیغ سے جو تبدیلی وہ نہ پیدا کر سکے اسلام نے وہ تبدیلی چند دنوں میں پیدا کر دی۔توحید کا وعظ مدینہ والوں کے دلوں میں گھر کرتا جاتا تھا۔یکے بعد دیگرے لوگ آتے اور مسلمانوں سے کہتے ہمیں اپنا دین سکھاؤ۔لیکن مدینہ کے نومسلم نہ تو خود اسلام کی تعلیم سے پوری طرح واقف تھے اور نہ اُن کی تعداد اتنی تھی کہ وہ سینکڑوں اور ہزاروں آدمیوں کو اسلام کے متعلق تفصیل سے بتا سکیں اس لئے اُنہوں نے مکہ میں ایک آدمی بجھوایا اور مبلغ کی درخواست کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصعب نامی ایک صحابی کو جو حبشہ کی ہجرت سے واپس آئے تھے مدینہ میں تبلیغ اسلام کے لئے بھجوایا۔مصعب مکہ سے باہر پہلا اسلامی مبلغ تھا۔اسراء اُنہی ایام میں خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آئندہ کے لئے پھر ایک زبر دست بشارت دی۔آپ کو ایک کشف میں بتایا گیا کہ آپ یروشلم گئے ہیں اور نبیوں نے آپ کی اقتداء میں نماز پڑھی سے یروشلم کی تعبیر مدینہ تھا، جو آئندہ کے لئے خدائے واحد کی عبادت کا مرکز بنے والا تھا اور آپ کے پیچھے نبیوں کے نماز پڑھنے کی تعبیر یہ تھی کہ مختلف مذاہب کے لوگ آپ کے مذہب میں داخل ہوں گے اور آپ کا مذہب عالمگیر ہو جائے گا۔یہ وقت مکہ میں مسلمانوں کے لئے نہایت ہی سخت تھا اور تکالیف انتہاء کو پہنچ چکی تھیں۔اس ے سیرت ابن هشام جلد ۲ صفحه ۳۶ تا ۳۸ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء