نبیوں کا سردار ﷺ — Page 48
۴۸ نبیوں کا سردار کے لئے جمع ہونے شروع ہوئے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی عادت کے مطابق جہاں کچھ آدمیوں کو کھڑا دیکھتے تھے اُن کے پاس جا کر انہیں تو حید کا وعظ سنانے لگ جاتے تھے اور خدا کی بادشاہت کی خوشخبری دیتے تھے اور ظلم اور بدکاری اور فساد اور شرارت سے بچنے کی نصیحت کرتے تھے۔بعض لوگ آپ کی بات سنتے اور حیرت کا اظہار کر کے جدا ہو جاتے۔بعض باتیں سن رہے ہوتے تو مکہ والے آ کر اُن کو وہاں سے ہٹا دیتے تھے۔بعض جو پہلے سے مکہ والوں کی باتیں سن چکے ہوتے وہ ہنسی اڑا کر آپ سے جدا ہو جاتے۔اسی حالت میں آپ منی کی وادی میں پھر رہے تھے کہ چھ سات آدمی جو مدینہ کے باشندے تھے آپ کی نظر پڑے۔آپ نے اُن سے کہا کہ آپ لوگ کس قبیلہ کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں؟ اُنہوں نے کہا خزرج قبیلہ کے ساتھ۔آپ نے کہا وہی قبیلہ جو یہودیوں کا حلیف ہے؟ انہوں نے کہا ہاں۔آپ نے فرمایا کیا آپ لوگ تھوڑی دیر بیٹھ کر میری باتیں سنیں گے؟ اُن لوگوں نے چونکہ آپ کا ذکر سنا ہوا تھا اور دل میں آپ کے دعوئی سے کچھ دلچسپی تھی انہوں نے آپ کی بات مان لی اور آپ کے پاس بیٹھ کر آپ کی باتیں سننے لگ گئے۔آپ نے انہیں بتایا کہ خدا کی بادشاہت قریب آ رہی ہے، بت اب دنیا سے مٹا دیئے جائیں گے، تو حید کو دنیا میں قائم کر دیا جائے گا۔نیکی اور تقویٰ پھر ایک دفعہ دنیا میں قائم ہو جائیں گے۔کیا مدینہ کے لوگ اس عظیم الشان نعمت کو قبول کرنے کے لئے تیار ہیں؟ انہوں نے آپ کی باتیں سنیں اور متاثر ہوئے اور کہا آپ کی تعلیم کو تو ہم قبول کرتے ہیں۔باقی رہا یہ کہ مدینہ اسلام کو پناہ دینے کے لئے تیار ہے یا نہیں اس کے لئے ہم اپنے وطن جا کر اپنی قوم سے بات کریں گے پھر ہم دوسرے سال اپنی قوم کا فیصلہ آپ کو بتائیں گے۔لے یہ لوگ واپس گئے اور انہوں نے اپنے رشتہ داروں اور دوستوں میں آپ کی تعلیم کا ذکر کرنا شروع کیا۔اُس وقت مدینہ میں دو عرب قبائل اوس سیرت ابن هشام جلد ۲ صفحه ۷۰ تا ۷۵۔مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ -