نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 27

۲۷ نبیوں کا سردار آپ کے گھر میں اردگرد کے گھروں سے متواتر پتھر پھینکے جاتے تھے۔باور چی خانہ میں گندی چیزیں پھینکی جاتی تھیں۔جن میں بکروں اور اونٹوں کی انتڑیاں بھی شامل ہوتی تھیں۔جب آپ نماز پڑھتے تو آپ پر خاک دھول ڈالی جاتی حتی کہ مجبور ہو کر آپ کو چٹان میں سے نکلے ہوئے ایک پتھر کے نیچے چھپ کر نماز پڑھنی پڑتی تھی۔مگر یہ مظالم بیکار نہ جارہے تھے۔شریف الطبع لوگ ان کو دیکھتے اور اسلام کی طرف اُن کے دل کھنچے چلے جاتے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن خانہ کعبہ کے قریب صفا پہاڑی پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ابو جہل آپ کا سب سے بڑا دشمن اور مکہ کا سردار وہاں سے گزرا اور اُس نے آپ کو گالیاں دینی شروع کیں۔آپ اُس کی گالیاں سنتے رہے اور کوئی جواب نہ دیا اور خاموشی سے اُٹھ کر اپنے گھر چلے گئے۔آپ کے خاندان کی ایک لونڈی اس واقعہ کو دیکھ رہی تھی۔شام کے وقت آپ کے چا حمزہ جو ایک نہایت دلیر اور بہادر آدمی تھے اور جن کی بہادری کی وجہ سے شہر کے لوگ اُن سے خائف تھے شکار کھیل کر جنگل سے واپس آئے اور کندھے کے ساتھ کمان لڑکائے ہوئے نہایت ہی تبختر کے ساتھ اپنے گھر میں داخل ہوئے۔لونڈی کا دل صبح کے نظارہ سے بے حد متاثر تھا۔وہ حمزہ کو اس شکل میں دیکھ کر برداشت نہ کر سکی اور انہیں طعنہ دے کر کہا۔تم بڑے بہادر بنے پھرتے ہو، ہر وقت اسلحہ سے مسلح رہتے ہو۔مگر کیا تمہیں معلوم ہے کہ صبح ابو جہل نے تمہارے بھتیجے سے کیا کیا ؟ حمزہ نے پوچھا کیا کیا؟ اُس نے وہ سب واقعہ حمزہ کے سامنے بیان کیا۔حمزہ گو مسلمان نہ تھے مگر دل کے شریف تھے۔اسلام کی باتیں تو سنی ہوئی تھیں اور یقینا اُن کے دل پر ان کا اثر ہو چکا تھا مگر اپنی آزادزندگی کی وجہ سے سنجیدگی کے ساتھ اُن پر غور کرنے کا موقع نہیں ملا تھا لیکن اس واقعہ کو سن کر اُن کی رگِ حمیت جوش میں آگئی۔آنکھوں پر سے غفلت کا پردہ دُور ہو گیا لا تبختر ناز سے چلنا، غرور سے چلنا،غرور، تکبر،فخر، اترانا