نبیوں کا سردار ﷺ — Page 26
۲۶ نبیوں کا سردار دن پھر اُسی مجلس میں پہنچے۔وہاں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف باتیں کرنا روزانہ کا شغل تھا۔جب یہ خانہ کعبہ میں گئے تو پھر وہی ذکر ہورہا تھا۔اُنہوں نے پھر کھڑے ہوکر اپنے عقیدہ توحید کا اعلان کیا اور پھر اُن لوگوں نے اُن کو مارنا پیٹنا شروع کیا۔اسی طرح تین دن ہوتار ہالے اس کے بعد یہ اپنے قبیلہ کی طرف چلے گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر مظالم خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بھی محفوظ نہ تھی۔طرح طرح سے آپ کو دیکھ دیا جا تا تھا۔ایک دفعہ آپ عبادت کر رہے تھے کہ آپ کے گلے میں پڑکا ڈال کر لوگوں نے کھینچنا شروع کیا یہاں تک کہ آپ کی آنکھیں باہر نکل آئیں۔اتنے میں حضرت ابوبکر وہاں آگئے اور اُنہوں نے یہ کہتے ہوئے پچھڑایا کہ اے لوگو! کیا تم ایک آدمی کو اس جرم میں قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے خدا میرا آقا ہے۔ایک دفعہ آپ نماز پڑھ رہے تھے کہ آپ کی پیٹھ پر اونٹ کی اوجھری لا کر رکھ دی گئی اور اس کے بوجھ سے اُس وقت تک آپ سر نہ اُٹھا سکے جب تک بعض لوگوں نے پہنچ کر اُس اوجھری کو آپ کی پیٹھ سے ہٹایا نہیں۔سے ایک دفعہ آپ بازار سے گزر رہے تھے تو مکہ کے اوباشوں کی ایک جماعت آپ کے گرد ہو گئی اور رستہ بھر آپ کی گردن پر یہ کہ کر تھپڑ مارتی چلی گئی کہ لوگو! یہ وہ شخص۔جو کہتا ہے میں نبی ہوں۔بخاری کتاب مناقب الانصار باب اسلام ابي ذر الغفاری بخاری کتاب المناقب باب قول النبی ﷺ لو كنت متخذا خليلا ے بخاری کتاب الصلوة باب المرأة تطرح عن المصلى (الخ) ہے