نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 28

۲۸ نبیوں کا سردار اور انہیں یوں معلوم ہوا کہ ایک قیمتی چیز ہاتھوں سے نکلی جارہی ہے۔اُسی وقت گھر سے باہر آئے اور خانہ کعبہ کی طرف گئے جو رؤساء کے مشورے کا مخصوص مقام تھا۔اپنی کمان کندھے سے اُتاری اور زور سے ابو جہل کو ماری اور کہا سنو ! میں بھی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے مذہب کو اختیار کرتا ہوں۔تم نے صبح اُسے بلاوجہ گالیاں دیں اس لئے کہ وہ آگے سے جواب نہیں دیتا۔اگر بہادر ہو تو آب میری مار کا جواب دو۔یہ واقعہ ایسا اچانک ہوا کہ ابو جہل بھی گھبرا گیا۔اُس کے ساتھی حمزہ سے لڑنے کو اُٹھے لیکن حمزہ کی بہادری کا خیال کر کے اور اُن کے قومی جتھا پر نظر کر کے ابو جہل نے خیال کیا کہ اگر لڑائی شروع ہوگئی تو اس کا نتیجہ نہایت خطرناک نکلے گا اس لئے مصلحت سے کام لے کر اُس نے اپنے ساتھیوں کو یہ کہتے ہوئے روک دیا کہ چلو جانے دو میں نے واقعہ میں اس کے بھتیجے کو بہت بری طرح گالیاں دی تھیں لے پیغام اسلام جب مخالفت تیز ہوگئی اور ادھر سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے اصرار سے مکہ والوں کو خدا تعالیٰ کا یہ پیغام پہنچانا شروع کیا کہ اس دنیا کا پیدا کرنے والا خدا ایک ہے، اُس کے سوا کوئی اور معبود نہیں۔جس قدر نبی گذرے ہیں سب ہی اُس کی توحید کا اقرار کیا کرتے تھے اور اپنے ہم قوموں کو بھی اسی تعلیم کی طرف بلایا کرتے تھے۔تم خدائے واحد پر ایمان لاؤ، ان پتھر کے بتوں کو چھوڑ دو کہ یہ بالکل بے کار ہیں اور ان میں کوئی طاقت نہیں۔اے مکہ والو! کیا تم دیکھتے نہیں کہ ان کے سامنے جوند رو نیاز رکھی جاتی ہے اگر اس پر مکھیوں کا جھرمٹ آ بیٹھے تو وہ ان مکھیوں کو اڑانے کی بھی طاقت نہیں رکھتے ، اگر سیرت ابن ہشام جلد ا صفحه ۳۱۱، ۳۱۲ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء