نبیوں کا سردار ﷺ — Page 25
۲۵ نبیوں کا سردار شخص نے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔وہ تحقیقات کے لئے مکہ آئے تو مکہ والوں نے انہیں ورغلایا اور کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) تو ہمارا رشتہ دار ہے۔ہم جانتے ہیں کہ اُس نے ایک دکان کھولی ہے۔مگر ابوذر اپنے ارادہ سے باز نہ آئے اور کئی تدابیر اختیار کر کے آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا پہنچے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی تعلیم بتائی اور آپ اسلام لے آئے۔آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لی کہ اگر میں کچھ عرصہ تک اپنی قوم کو اپنے اسلام کی خبر نہ دوں تو کچھ حرج تو نہیں؟ آپ نے فرمایا اگر چند دن خاموش رہیں تو کوئی حرج نہیں۔اس اجازت کے ساتھ وہ اپنے قبیلہ کی طرف واپس چلے اور دل میں فیصلہ کر لیا کہ کچھ عرصہ تک میں اپنے حالات کو درست کرلوں گا تو اپنے اسلام کو ظاہر کروں گا۔جب وہ مکہ کی گلیوں میں سے گزررہے تھے تو انہوں نے دیکھا کہ رؤسائے مکہ اسلام کے خلاف گالی گلوچ کر رہے ہیں۔کچھ دنوں کے لئے اپنے عقیدہ کو چھپائے رکھنے کا خیال اُن کے دل سے اُسی وقت محو ہو گیا۔اور بے اختیار ہو کر انہوں نے اس مجلس کے سامنے یہ اعلان کیا أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " - یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اُس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اُس کے بندے اور رسول ہیں۔دشمنوں کی اس مجلس میں اس آواز کا اُٹھنا تھا کہ سب لوگ ان کو مارنے کے لئے اُٹھ کھڑے ہوئے اور اتنا مارا کہ وہ بیہوش ہو کر جا پڑے لیکن پھر بھی ظالموں نے اپنے ہاتھ نہ کھینچے اور مارتے ہی چلے گئے۔اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چا عباس جو اُس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے وہاں آگئے اور اُنہوں نے ان لوگوں کو سمجھایا کہ ابوذر کے قبیلہ میں سے ہو کر تمہارے غلے کے قافلے آتے ہیں اگر اُس کی قوم کو غصہ آگیا تو مکہ بھوکا مرجائے گا۔اس پر اُن لوگوں نے اُن کو چھوڑ دیا۔ابوذر نے ایک دن آرام کیا اور دوسرے ย