نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 268

۲۶۸ نبیوں کا سردار عبادت کرتے کرتے تھک جاتی ہیں تو اس رہتی کو پکڑ کر سہارا لے لیتی ہیں۔آپ نے فرمایا۔ایسا نہیں کرنا چاہئے یہ رسی کھول دو۔ہر شخص کو چاہئے کہ اتنی دیر عبادت کیا کرے جب تک اُس کے دل میں بشاشت رہے جب وہ تھک جائے تو بیٹھ جائے اس قسم کی تکلف والی عبادت کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی اے شرک سے آپ کو اس قدر نفرت تھی کہ وفات کے وقت جبکہ آپ جان کندن کی تکلیف میں کبھی دائیں کروٹ لیٹتے اور کبھی بائیں کروٹ لیٹتے اور یہ فرماتے جاتے تھے خدا ان یہود اور نصاریٰ پر لعنت کرے جنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجد بنالیا ہے۔یعنی وہ نبیوں کی قبروں پر سجدے کرتے ہیں اور اُن سے دعائیں کرتے ہیں۔آپ کا مطلب یہ تھا کہ میری قوم اگر میرے بعد ایسا ہی فعل کرے گی تو وہ یہ نہ سمجھے کہ وہ میری دعاؤں کی مستحق ہوگی بلکہ میں اس سے کلی طور پر بیزار ہوں گا۔خدا تعالیٰ کے لئے آپ کی غیرت کا ذکر آپ کی زندگی کے تاریخی واقعات میں آچکا ہے۔مکہ کے لوگوں نے آپ کے سامنے ہر قسم کی رشوتیں پیش کیں تا آپ بتوں کی تردید کرنا چھوڑ دیں اور آپ کے چچا ابوطالب نے بھی آپ سے اس امر کی سفارش کی اور کہا کہ اگر تم نے یہ بات نہ مانی اور میں نے تمہارا ساتھ بھی نہ چھوڑا تو پھر میری قوم مجھے چھوڑ دے گی تو اس پر آپ نے فرمایا اے چا! اگر یہ لوگ سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں لا کر کھڑا کر دیں تب بھی میں خدائے واحد کی تو حید کو پھیلانے سے نہیں رک سکتا۔سے اسی طرح اُحد کے موقع پر جب مسلمان زخمی اور پراگندہ حالت میں ایک پہاڑی بخاری کتاب التهجد باب ما يكره من التشديد في العباده بخاری کتاب الجنائز باب ما جاء في قبر النبی ﷺ (الخ) سے سیرت ابن ہشام جلد ا صفحه ۲۸۴ - ۲۸۵ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء