نبیوں کا سردار ﷺ — Page 267
۲۶۷ نبیوں کا سردار رواج تھا مگر آپ کو خدا تعالیٰ کی یاد اور اُس کا ذکر اتنا پسند تھا کہ اس غرض کے لئے بھی ذکر الہی ہی استعمال کرنے کا حکم دیا۔چنانچہ لکھا ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول تھے کہ نماز کا وقت آگیا۔آپ نے فرمایا ابوبکر ! نماز پڑھا دیں۔پھر کام سے فارغ ہو کر آپ بھی فورا مسجد کی طرف روانہ ہو گئے۔جب نماز پڑھنے والوں کو معلوم ہوا کہ آپ مسجد میں تشریف لے آئے ہیں تو انہوں نے بیتاب ہو کر تالیاں بجانی شروع کر دیں جس سے ایک طرف تو یہ بتانا مقصود تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے ان کے دل بے انتہاء خوش ہو گئے ہیں اور دوسری طرف ابوبکر کو توجہ دلا نا مطلوب تھا کہ اب آپ کی امامت ختم ہوئی اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں۔حضرت ابو بکر پیچھے ہٹ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے امام کی جگہ چھوڑ دی۔نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ابوبکر ! جب میں نے تم کو نماز پڑھانے کا حکم دیا تھا تو تم میرے آنے پر پیچھے کیوں ہٹ گئے؟ ابوبکر نے کہا يَا رَسُولَ اللہ! اللہ کے رسول کی موجودگی میں ابوقحافہ کا بیٹا کیا حیثیت رکھتا تھا کہ نماز پڑھائے۔پھر آپ صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا۔تالیاں پیٹنے سے تمہاری کیا غرض تھی۔خدا کے ذکر کے وقت تالیوں کا بجانا تو مناسب معلوم نہیں ہوتا ہے۔جب نماز کے وقت کوئی ایسی بات ہو کہ اُس کی طرف توجہ دلانی ضروری ہو تو بجائے تالیاں بجانے کے خدا کا نام بلند آواز سے لیا کرو۔جب تم ایسا کرو گے تو دوسروں کو اس واقعہ کی طرف خود بخو د توجہ ہو جائے گی ہے مگر اس کے ساتھ ہی آپ تکلف کی عبادت بھی پسند نہیں فرماتے تھے۔ایک دفعہ آپ گھر میں گئے تو آپ نے دیکھا کہ دوستونوں کے درمیان ایک رتی لکھی ہوئی ہے۔آپ نے پوچھا یہ رشی کیوں بندھی ہوئی ہے؟ لوگوں نے کہا یہ حضرت زینب کی رہتی ہے جب وہ بخاری کتاب الاذان باب من دخل ليوم الناس (الخ)