نبیوں کا سردار ﷺ — Page 269
۲۶۹ نبیوں کا سردار کے نیچے کھڑے تھے اور دشمن اپنے سارے ساز وسامان کے ساتھ اس خوشی میں نعرے لگا رہا تھا کہ ہم نے مسلمانوں کی طاقت توڑ دی ہے۔اور ابوسفیان نے نعرہ لگایا اُخل هبل اُعْلُ هُبَل۔یعنی ہیل کی شان بلند ہو، ہبل کی شان بلند ہو۔تو آپ نے اپنے ساتھیوں کو جو دشمن کی نظروں سے چھپے کھڑے تھے اور اس چھپنے میں ہی اُن کی خیر تھی حکم دیا کہ جواب دو اللهُ أَعْلَى وَأَجَلٌ - اللهُ اعلی وَ أَجَلُ اللہ ہی سب سے بلند اور جلال والا ہے۔اللہ ہی غلبہ اور جلال رکھتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوخدا تعالیٰ کے لئے جو غیرت تھی اُس کی ایک اور عظیم الشان مثال بھی آپ کی زندگی میں ملتی ہے۔اسلام سے پہلے عام طور پر مختلف مذاہب میں یہ خیال پایا جاتا تھا کہ انبیاء کی خوشی اور غم پر زمین اور آسمان میں تغیر ظاہر ہوتے ہیں اور اجرام فلکی ان کے قبضے میں ہوتے ہیں چنانچہ کسی نبی کے متعلق یہ آتا تھا کہ اُس نے سورج کو کہا ٹھہر جا اور وہ ٹھہر گیا۔کسی کے متعلق آتا تھا کہ اُس نے چاند کی گردش روک دی اور کسی کے متعلق آتا تھا کہ اُس نے پانی کے بہاؤ کو بند کر دیا۔مگر اسلام نے اس قسم کے خیالات کی غلطی ظاہر کی اور یہ بتایا کہ در حقیقت یہ استعارے ہیں جن سے لوگ بجائے فائدہ اٹھانے کے اُلٹے غلطیوں اور وہموں میں مبتلا ہو جاتے ہیں لیکن باوجود ان تشریحات کے کچھ لوگوں کے دلوں میں اس قسم کے خیالات کا اثر باقی رہ گیا تھا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری عمر میں آپ کے اکلوتے صاحبزادے ابراہیم اڑھائی سال کی عمر میں فوت ہوئے تو اتفاقاً اُس دن سورج کو بھی گرہن لگ گیا اُس وقت چند ایسے ہی لوگوں نے مدینہ میں یہ مشہور کر دیا کہ دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے کی وفات پر سورج تاریک ہو گیا ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ خوش نہ ہوئے آپ خاموش بھی نہ بخاری کتاب الجهاد باب ما يكره من التنازع والاختلاف في الحرب (الخ)