نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 245

۲۴۵ نبیوں کا سردار بھی گواہ رہ کہ میں نے انہیں اصولِ اسلام پہنچا دیتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس حج سے واپس آنے کے بعد برابر مسلمانوں کے اخلاق اور ان کے اعمال کی اصلاح میں مشغول رہے اور مسلمانوں کو اپنی وفات کے دن کی امید کے لئے تیار کرتے رہے۔ایک دن آپ خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا۔آج مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا ہے کہ اُس دن کو یاد کرو جب خدا تعالیٰ کی نصرتیں اور اُس کی طرف سے فتوحات گزشتہ زمانہ سے بھی زیادہ زور سے آئیں گی اور ہر قوم وملت کے لوگ اسلام میں فوج در فوج داخل ہونے شروع ہوں گے۔پس اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اب تم خدا تعالیٰ کی تعریف میں لگ جاؤ اور اُس سے دعا کرو کہ دین کی بنیا د جو تم نے قائم کی ہے وہ اس میں سے ہر قسم کے رخنوں کو دُور کرے۔اگر تم یہ دعائیں کرو گے تو خدا تعالیٰ ضرور تمہاری دعاؤں کو سنے گا۔اسی طرح آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ نے اپنے بندے سے کہا کہ خواہ تم ہمارے پاس آجاؤ اور خواہ تم دنیا کی اصلاح کا کام بھی کچھ اور مدت کرو۔خدا کے اس بندے نے جواب میں کہا کہ مجھے آپ کے پاس آنا زیادہ پسند ہے۔جب آپ نے یہ بات مجلس میں سنائی تو حضرت ابوبکر رو پڑے۔صحابہ کو تعجب ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اسلام کی فتوحات کی خبر سنا رہے ہیں اور ابوبکر رور ہے ہیں۔حضرت عمر کہتے ہیں میں نے کہا اس بڑھے کو کیا ہو گیا کہ یہ خوشی کی خبر پر روتا ہے ! مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھتے تھے کہ ابوبکر ہی آپ کی بات کو صحیح سمجھتا ہے اور اُس نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اس سورۃ میں میری وفات کی خبر ہے۔آپ نے فرمایا ابوبکر مجھ کو بہت ہی پیارا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے غیر محدود پیار کرنا جائز ہوتا تو میں ابوبکر سے ایسا ہی پیار کرتا۔اے لوگو! مسجد میں جتنے لوگوں کے دروازے کھلتے ہیں آج سے سب دروازے بند کر دیئے جائیں صرف ابوبکر کا دروازہ کھلا رہے بیلے بخاری کتاب المناقب باب قول النبی ﷺ سدوا الابواب (الخ)