نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 244

۲۴۴ نبیوں کا سردار ہے کہ اللہ تعالیٰ کا پیغامبر میری طرف آئے اور مجھے اُس کا جواب دینا پڑے۔پھر فرمایاا ے لوگو! مجھے میرے مہربان اور خبر دار آقا نے خبر دی ہے کہ نبی اپنے سے پہلے نبی کی نصف عمر پاتا ہے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی عمر ۱۲۰ سال کے قریب تھی اور اس سے آپ نے استدال کیا کہ میری عمر ساٹھ سال کے قریب ہو گی لے چونکہ اُس وقت آپ کی عمر باسٹھ تریسٹھ سال کی تھی آپ نے اس طرف اشارہ فرمایا کہ میری عمر اب ختم ہونے والی معلوم ہوتی ہے۔اس حدیث کے یہ معنی نہیں کہ ہر نبی اپنے سے پہلے آنے والے نبی سے آدھی عمر پاتا ہے بلکہ اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حضرت عیسی علیہ السلام کی عمر اور اپنی عمر کا مقابلہ کیا ہے ) اور مجھے خیال ہے کہ اب جلدی مجھے بلایا جائے گا اور میں فوت ہو جاؤں گا۔اے میرے صحابہ ! مجھ سے بھی خدا کے سامنے سوال کیا جائے گا اور تم سے بھی سوال کیا جائے گا تم اُس وقت کیا کہو گے؟ اُنہوں نے کہا یا رَسُول اللہ! ہم کہیں گے کہ آپ نے خوب اچھی طرح اسلام کی تبلیغ کی اور آپ نے اپنی زندگی کو کلی طور پر خدا کے دین کی خدمت کے لئے لگا دیا اور آپ نے بنی نوع انسان کی خیر خواہی کو کمال تک پہنچا دیا۔اللہ آپ کو ہماری طرف سے بہتر سے بہتر بدلہ دے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کیا تم اس بات کی گواہی نہیں دیتے کہ اللہ ایک ہی ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اُس کے بندے اور رسول ہیں اور جنت بھی حق ہے اور دوزخ بھی حق ہے اور یہ کہ موت بھی ہر انسان کو ضرور آنی ہے اور موت کے بعد زندگی بھی ہر انسان کو ضرور ملے گی اور قیامت بھی ضرور آنی ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ تمام بنی نوع انسان کو قبروں میں سے دوبارہ زندہ کر کے اکٹھا کرے گا۔انہوں نے کہا ہاں يَا رَسُولَ اللہ ! ہم اس کی گواہی دیتے ہیں۔اس پر آپ نے خدا تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اے اللہ ! تو کنز العمال جلد ا ا صفحہ ۴۷۹ مطبوعہ حلب ۱۹۷۴ء